(22 فروری 2026): درختوں یا پیڑوں پر پھل، پھول یا سبزیاں اگتی ہیں مگر ایک ایسا بھی درخت ہے جس پر ان چیزوں کے بجائے پیسے اگتے ہیں۔آپ نے وہ مشہور محاورہ تو ضرور سنا ہوگا جو پوری نہ ہونے والی فرمائش کرنے پر کہا جاتا ہے کہ ’’پیسے درختوں پر نہیں اگتے‘‘، لیکن اس مثل کے برعکس ایک ایسا درخت بھی ہے، جہاں حقیقت میں درخت پر پیسے اگتے ہیں۔یہ انوکھا درخت بھارت کی ریاست بہار میں ہے، اور اس کی اسی خصوصیت کی بنا پر اسے منی درخت (Money tree) بھی کہا جاتا ہے۔تاہم اس درخت پر پیسے شاخوں سے نہیں اگتے بلکہ توہم پرست لوگ یہاں آتے، اپنی منتیں مرادیں مانگتے اور بطور منت درخت پر مختلف مالیت کے سکے چپکا کر چلے جاتے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ روایت صدیوں پرانی ہے اور اب اس درخت پر سکے لگانے کی جگہ بھی نہیں بچی ہے۔بہیدا کا یہ درخت رتنا گیری پہاڑیوں پر وشو شانتی اسٹوپا اور ایک جاپانی بدھ مندر کے قریب واقع ہے۔یہاں نہ صرف بھارت بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد آتی ہے اور اپنی مذہبی عبادات کے بعد جاتے ہوئے اس درخت کے سامنے اپنی منتیں مانگتی اور بطور منت سکے چپکا دیتی ہے۔اس درخت کے قریب ڈیوٹی دینے والے ایک سپاہی نے بتایا کہ یہاں زیادہ تر نوجوان لڑکے لڑکیاں منتیں مانگنے آتے ہیں اور شادی کی منتیں مانگتے ہیں۔تاہم ماہر ماحولیات ڈاکٹر اوما کانت سنگھ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو خالص توہم پرستی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سکوں کو تنے میں لگانے سے درخت کے غدود تباہ ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جڑوں سے اوپر کی طرف پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نایاب درخت آہستہ آہستہ مر رہا ہے۔وارانسی کی جغرافیہ کی طالبہ آیوشی جیسوال نے بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منت کے نام پر آکسیجن فراہم کرنے والے درختوں کو مارنا غیر دانشمندانہ ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ درختوں اور انسانوں دونوں کی حفاظت کے لیے ریلنگ لگائی جائے اور سیاحوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔کس درخت پر قیمتی سونا اُگتا ہے؟ سائنسدانوں کی نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا!