(22 فروری 2026) پانی اور سیوریج کے پرانے نظام سے پرشان عوام کی مشکل آسان ہو گئی اور ترقیاتی کاموں کے لیے 21 کلو سونے کی اینٹیں عطیہ کر دی گئیں۔تاہم یہ مشکل پاکستانی عوام کی نہیں بلکہ جاپان کے شہر اوساکا کے لوگوں کی ہوئی ہے، جہاں گمنام ڈونر نے ترقیاتی کاموں کے لیے ایک دو نہیں بلکہ 21 کلو سونے کی اینٹیں عطیہ کر دیں جو انتظامیہ کو مل بھی گئی ہیں اور اس کی مالیت 26 لاکھ ڈالرز (پاکستانی ایک ارب روپے سے زائد) بتائی جاتی ہے۔جاپانی میڈیا کے مطابق میئر اوساکا کا کہنا ہے کہ سونے کی 21 کلو اینٹیں ایک پرسرار شخص نے اوساکا میں پانی اور سیوریج کے پرانے پائپوں کو تبدیل کرنے کے لیے عطیہ کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس شخص کو کوئی نہیں جانتا، جب کہ اس سے قبل یہی شخص 5 لاکھ ین نقد رقم بھی عطیہ کر چکا ہے۔میئر اوساکا کا کہنا تھا کہ پرانے پائپس بدلنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ یہ بندوبست ہونے کے بعد کام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سیوریج پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے میں نقائص کے باعث سڑکوں پر گڑھے پڑنے کے واقعات بڑھ رہے تھے۔