ایران شاید صنعتی معیار والا بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے، اسٹیو وٹکاف کا دعویٰ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (22 فروری 2026): اسٹیو وٹکاف نے کہا ہے کہ ایران شاید صنعتی معیار والا بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے اور ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے ہفتے کے روز فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا ’’وہ غالباً ایک ہفتے کی دوری پر ہیں کہ صنعتی معیار کا بم بنانے والا مواد حاصل کر لیں۔ اور یہ واقعی خطرناک ہے، اس لیے انھیں یہ نہیں ملنا چاہیے۔‘‘وٹکاف نے کہا ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی سویلین ایٹمی مقاصد سے کہیں زیادہ ہے، انھوں نے کہا مستقبل میں ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ہو، تہران کے لیے ٹرمپ کا عزم ’’زیرو افزودگی‘‘ ہی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق ٹرمپ ایرانی تجویز پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت نام نہاد ’’علامتی‘‘ یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ایران نے یورپی یونین کی بحری و فضائی افواج کو دہشت گرد قرار دے دیاانھوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانیوں نے شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔ اسٹیو ویٹکوف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بہتر رویہ اختیار کرے گا۔انھوں نے میزبان لارا ٹرمپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ڈونلڈ ٹرمپ تہران کی کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی ہچکچاہٹ پر بالکل ناراض نہیں تھے بلکہ ’’متجسس‘‘ تھے۔ وہ متجسس ہیں کہ اس قسم کے دباؤ کے تحت، اور اس سمندری و بحری طاقت کی موجودگی میں جو ہمارے پاس وہاں ہے، ایران نے ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک محدود سمجھوتے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کی تصدیق کی جا سکے کہ یورینیم کی کسی بھی سطح کی افزودگی مکمل طور پر شہری مقاصد کے لیے ہے اور اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی سمت پیش قدمی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔