کویت نے شہریوں پر نیا قانون نافذ کر دیا

Wait 5 sec.

کویت سٹی (23 فروری 2026): کویت نے اپنے شہریوں پر لازمی فوجی بھرتی کا قانون نافذ کر دیا۔کویتی حکومت نے قومی فوجی سروس کے قانون میں اہم ترامیم منظور کی ہیں، 2012 میں پیدا ہونے والے شہریوں کو 18 سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد 180 دن کے اندر لازمی بھرتی کے ادارے میں رجسٹریشن کرانا ہوگی۔نئے قانون کے تحت پانچ طبقات کو فوجی سروس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، یکم جنوری 2012 سے پہلے پیدا ہونے والے افراد اس میں شامل ہیں، کابینہ کو بھی مفاد عامہ کے تحت مخصوص افراد کو استثنیٰ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔سرکاری یا نجی ملازمت کے حصول کے لیے فوجی سروس مکمل کرنے، استثنیٰ یا التوا کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوگا۔ آزاد پیشہ اختیار کرنے کے لیے بھی یہی شرط عائد کی گئی ہے۔ فوجی سروس مکمل کرنے والوں کو تقرری میں ترجیح دی جائے گی۔کویت: درجنوں افراد کی شہریت منسوخ کر دی گئیکسی امیدوار کو صرف اس بنیاد پر ملازمت سے انکار نہیں کیا جا سکے گا کہ وہ سروس میں ہے یا اسے طلب کیا گیا ہے، بشرطیکہ متعلقہ اتھارٹی سے اجازت نامہ حاصل ہو۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد رنگروٹوں کی تقسیم فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف یا ان کے نائب کے منظور شدہ منصوبے کے مطابق کی جائے گی۔عدالتی سزا کے تحت قید یا منشیات بحالی مرکز میں گزارا گیا وقت فعال سروس میں شمار نہیں ہوگا۔ فوجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو لازمی سروس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ فوج، پولیس، نیشنل گارڈ اور جنرل فائر فورس کے اہلکار بھی استثنیٰ کے حقدار ہوں گے، بشرطیکہ ان کی ملازمت پانچ سال سے کم نہ ہو۔کویت پٹرولیم کوآپریشن اور اس سے منسلک کمپنیوں کے فائر فائٹرز بھی اسی شرط کے تحت مستثنیٰ ہوں گے۔ جسمانی یا نفسیاتی بیماری میں مبتلا افراد کو بھی طبی بنیادوں پر چھوٹ دی جائے گی۔رجسٹریشن یا شمولیت میں بلا عذر تاخیر کرنے والوں کے لیے مرحلہ وار انتظامی جرمانے مقرر کیے گئے ہیں، تاخیر کی مدت کے مطابق اضافی سروس عائد کی جا سکتی ہے، ازخود رجوع کرنے یا بہتر کارکردگی دکھانے والوں کے لیے رعایت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔