تہران (23 فروری 2026): ممکنہ جنگ اور قیادت کو لاحق خطرات کے پیش نظر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے عملی انتظامی اختیارات علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، ساتھ ہی جوہری معاہدے کے امکانات بھی موجود ہیں، تاہم ایرانی قیادت بدترین حالات کے لیے تیاری کر رہی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اعلیٰ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای نے اپنے قریبی ساتھی علی لاریجانی کو اہم ریاستی امور سونپ دیے ہیں، یہ فیصلہ ممکنہ امریکی حملے اور قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاریجانی جنوری سے حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں، وہ اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، اس صورتحال میں صدر مسعود پزیشکیان کا کردار محدود ہو گیا ہے۔ایران پر ممکنہ حملہ، امریکا نے قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیےحکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای نے ہنگامی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے، اہم عہدوں کے لیے متبادل نام طے کر دیے گئے ہیں، فوجی کمانڈروں کو بھی ممکنہ جانشین نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور قریبی حلقے کو ہنگامی فیصلوں کا اختیار دے دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایران نے اپنی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، مغربی سرحد اور جنوبی ساحلوں پر میزائل تنصیبات فعال کر دی گئی ہیں، فضائی حدود عارضی طور پر بند کی جا چکی ہے اور خلیج میں فوجی مشقیں بھی کی گئی ہیں۔جنگ کی صورت میں پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سیکیورٹی ادارے بڑے شہروں میں تعینات ہوں گے، داخلی بدامنی اور بیرونی مداخلت روکنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق قیادت کے متبادل ناموں میں لاریجانی سرفہرست ہیں، ان کے بعد محمد باقر قالیباف اور حسن روحانی کا نام لیا جا رہا ہے۔یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا جنیوا میں جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں، اس سے قبل مذاکرات کے دو دور مثبت قرار دیے گئے تھے۔