صحافیوں کے سب سے بڑے قاتل اسرائیل نے فلسطینی میڈیا کو دہشتگرد قرار دیدیا

Wait 5 sec.

صحافیوں کے سب سے بڑے قاتل اسرائیل نے پانچ فلسطینی خبر رساں اداروں کو ’دہشت گرد‘ گروپ قرار دے دیا۔مقامی اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک فوجی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس میں پانچ فلسطینی مقامی آن لائن میڈیا پلیٹ فارمز کو "دہشت گرد” تنظیموں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔کاٹز کی طرف سے پیر کے روز اعلان کردہ آرڈر کا ہدف العاصمہ نیوز، قدس پلس، القدس البوصلہ، معراج اور میدان القدس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو بدامنی بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر یروشلم میں۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا مانیٹر اور حقوق گروپ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت آزادی اظہار پر اسرائیل کے کریک ڈاؤن کو اجاگر کر رہے ہیں۔اسرائیل نے فلسطینی صحافیوں کے 700 سے زائد رشتہ داروں کو شہید کر دیاغاصب صہیونی ریاست صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں بلکہ مسلسل تیسرے سال دنیا بھر میں صحافیوں کا بھی سب سے بڑا قاتل قرار دیا گیا ہے۔غاصب اسرائیل کے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور دنیا اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے بھی بخوبی واقف ہے۔غزہ: اسرائیلی فوج نے 6 صحافیوں کو شہید کردیاتاہم اسرائیل مسلسل تیسرے سال میں دنیا بھر میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل قرار پایا ہے۔ اس حوالے سے عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے جشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے۔آر ایس ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2025 میں بھی دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں میں سے تقریباً نصف کے قتل کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس 2025 میں اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 67 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ ان میں سے 29 فلسطینی صحافیوں کو غزہ میں شہید کیا گیا۔فلسطینی صحافیوں کی سنڈیکیٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ میں اپنی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل نے فلسطینی صحافیوں کے کم از کم 706 خاندان کے افراد کو قتل کیا ہے۔سنڈیکیٹ کی فریڈمز کمیٹی کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز منظم طریقے سے صحافیوں کے خاندانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس کا مقصد فلسطینی رپورٹنگ کو خاموش کرنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی بجائے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کی نمائندگی کرتے ہیں۔غاصب صہیونی ریاست صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں بلکہ مسلسل تیسرے سال دنیا بھر میں صحافیوں کا بھی سب سے بڑا قاتل قرار دیا گیا ہے۔