سخت ردعمل آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر اپنے بیان سے مکرنے لگے

Wait 5 sec.

اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی ’مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے‘ کے بیان مکرنے لگے۔قدامت پسند امریکی تجزیہ کار ٹَکر کارلسن کے ساتھ جمعہ کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں مائیک ہکابی سے جب اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدوں کی بنیاد بائبل میں بیان کردہ حدود پر ہے، یہ زمین خدا نے اسرائیلیوں کو دی ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے فرات تک قبضہ کرنا ٹھیک ہوگا۔واضح الفاظ میں اپنے عزائم کا اظہار کرنے والے امریکی سفیر اب بیان کی تردید کرتے ہوئے وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے، مائیک ہکابیانہوں نے کہا کہ مذکورہ بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور پیش کیے گئے الفاظ میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ہکابی نے اتوار کو سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ جو ورژن ٹَکر نے ڈالا اس نے میرے مکمل جواب کو ایڈٹ کیا۔ سچائی ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ بظاہر ٹَکر کے لیے نہیں۔مائیک ہکابی نے کہا اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لے تو انھیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یہودی قوم کا اس سرزمین پر حق قرار دیتے ہیں۔کارلسن نے ہکابی سے کہا کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیم کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق کے دریائے فرات اور مصر کے دریائے نیل کے درمیان کا علاقہ شامل ہے۔ اتنا وسیع علاقہ آج کے لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے بعض حصوں پر مشتمل ہوگا۔ گزشتہ برس ٹرمپ کے مقرر کردہ سفیر ہکابی نے جواب میں کہا ’’اگر وہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا۔‘‘