امریکا اور ایران کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی کا امکان

Wait 5 sec.

واشنگٹن (06 اپریل 2026): امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے، جو جنگ کے مستقل خاتمے کی طرف لے جا سکتی ہے۔روئٹرز کے مطابق ایگزیوس نے اتوار کو امریکا، اسرائیل اور خطے کے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ثالث کاروں نے ایران امریکا معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، اور ایک گروپ نے ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے۔روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواستوں پر فوری ردعمل نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق ثالثین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی شامل ہوگی، جس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںرپورٹ کے مطابق اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے یا اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سامنا کرنے کی آخری تاریخ منگل کی شام ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آج ایران سے معاہدے کا قوی امکان ظاہر کر دیا ہے، فاکس نیوز کے ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ٹرمپ نے بتایا ایران سے مذاکرات جاری ہیں، جلد معاہدہ طے پا سکتا ہے، جلد معاہدہ نہ ہوا تو ایران میں سب کچھ تباہ کر کے تیل پر قبضہ کر لیں گے۔