آسام انتخابات: کانگریس کا ہیمنت بسوا سرما پر حملہ، اہلیہ کے غیر ملکی پاسپورٹس اور بیرون ملک کاروبار پر سوالات

Wait 5 sec.

کانگریس نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ان کی اہلیہ رنکی بھوئیاں سرما کے خلاف سنگین الزامات عائد کر کے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے پاس ایک نہیں بلکہ تین غیر ملکی پاسپورٹس موجود ہیں اور ان کے بیرون ملک وسیع کاروباری مفادات بھی ہیں، جنہیں انتخابی حلف نامے میں ظاہر نہیں کیا گیا۔پون کھیڑا کے مطابق رنکی بھوئیاں سرما کے پاس متحدہ عرب امارات، اینٹیگوا و باربوڈا اور مصر کے پاسپورٹس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ قانون اور شفافیت کا ہے، کیونکہ ہندوستان کے قوانین کے مطابق کوئی شہری دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آیا وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ بھی موجود ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو یہ کس بنیاد پر ممکن ہوا۔کانگریس نے مزید الزام لگایا کہ رنکی بھوئیاں سرما کی دبئی میں دو جائیدادیں ہیں، جن کی مکمل تفصیلات دستیاب ہیں، مگر ہیمنت بسوا سرما کے انتخابی حلف نامے میں ان جائیدادوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کے لیے امیدوار یا ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی مکمل تفصیل دینا لازمی ہوتا ہے، ایسے میں یہ ایک سنگین سوال ہے کہ یہ معلومات کیوں چھپائی گئیں۔اسی کے ساتھ کانگریس نے امریکہ کی ریاست وائیومنگ میں ایک کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کمپنی میں رنکی بھوئیاں سرما، ہیمنت بسوا سرما اور ان کے بیٹے کے نام شامل ہیں۔ الزام ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے بڑی مالی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں اور اس کا منصوبہ امریکہ میں ہوٹل کھولنے کا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ کمپنی کی مالیت ہزاروں کروڑ روپے میں ہے اور اس کے منافع کا بڑا حصہ خاندان کے افراد کے درمیان تقسیم ہونا ہے۔کانگریس نے یہ بھی کہا کہ وائیومنگ ایک ایسی جگہ کے طور پر جانی جاتی ہے جہاں ٹیکس سے بچنے اور اثاثے چھپانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔ پارٹی نے مرکزی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو سخت کارروائی کی جائے۔پون کھیڑا نے سیاسی زاویے سے بھی اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سیاست اکثر مسلمانوں کے خلاف بیانیے پر مبنی رہی ہے، مگر ان کی اہلیہ کے پاس مسلم ممالک کے پاسپورٹس ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کی عوام اس پورے معاملے پر وضاحت چاہتی ہے اور متعلقہ اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔فی الحال ان الزامات پر وزیر اعلیٰ یا ان کے خاندان کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اس معاملے نے بحث کو تیز کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید ردعمل متوقع ہے۔