پولیس تھانوں میں ’سی سی ٹی وی‘ کی کمی پر سپریم کورٹ سخت، مرکزی داخلہ سکریٹری کو کیا طلب

Wait 5 sec.

راجستھان سمیت ملک کی دیگر ریاستوں کے پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کمی سے متعلق از خود نوٹس معاملہ پر پیر (6 اپریل) کو سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے مرکزی داخلہ سکریٹری کو طلب کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ ہندوستان کے داخلہ سکریٹری اس عدالت کے سامنے موجود رہیں تاکہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری منصوبے کے نفاذ میں ان سے مناسب مدد حاصل کی جا سکے۔In the suo motu proceedings concerning the lack of functional CCTV cameras in police stations, the Supreme Court on Monday directed the personal presence of the Union Home Secretary on the next date of hearing to assist the Court in issuing directions for effective monitoring of… pic.twitter.com/LaeYsoTHsA— Live Law (@LiveLawIndia) April 6, 2026سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ کیرالہ میں سب سے اچھا انتظام ہے تو دوسری ریاستیں اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتیں؟ جسٹس سندیپ مہتا نے کہا کہ وہ میٹنگ کر کے کیرالہ ماڈل کے کے مطابق ترقی کیوں نہیں کر سکتے؟ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ کو سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے بتایا کہ کئی ریاستوں نے اس سمت میں کافی ترقی ہے، لیکن کچھ ریاستیں اب بھی پیچھے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ اس میں شاید کچھ اور سیاسی وجوہات بھی شامل ہیں۔سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت کو مزید بتایا کہ کیرالہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں نے مضبوط سی سی ٹی وی سسٹم نافذ کیے ہیں۔ خاص طور سے کیرالہ میں پولیس افسر موبائل کے ذریعہ ریئل-ٹائم مانیٹرنگ کر سکتے ہیں۔ جب دوے نے کہا کہ کیرالہ میں سب سے اچھا انتظام ہے تو جسٹس ناتھ نے کہا کہ ’’اگر آپ کہتے ہیں کہ کیرالہ میں سب سے اچھا انتظام ہے تو دیگر ریاستیں اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتیں؟‘‘قوانین کی عدم تعمیل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے جھارکھنڈ کو ایک ایسی ریاست کے طور پر نشان زد کیا جہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ عدالت نے دہلی اور کچھ مرکزی ایجنسیوں میں بھی پائی جانے والی خامیوں کا ذکر کیا۔ بنچ نے پایا کہ کئی ریاستوں میں کیمرے لگانے کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے، لیکن ان کی مانیٹرنگ کے لیے ڈیش بورڈ سسٹم اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ان رپورٹس پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن میں کہا گیا تھا کہ پڑوسی ممالک سے منگوائے گئے کچھ سی سی ٹی وی کیمروں کو ڈیٹا سیکورٹی کے خطرات کے باعث ہٹانا پڑ سکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ اب حکومت نے کچھ خاص کیمروں کو ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت میں ریاستیں فنڈنگ کی کمی کو کیسے سنبھالیں گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل راجہ ٹھاکرے نے کہا کہ اس تعلق سے اب تک کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔سماعت کے دوران بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ مشترکہ طور پر مالی اعانت یافتہ ہے، جس میں ریاست 40 فیصد اور مرکزی حکومت 60 فیصد کا تعاون دے رہی ہے۔ بنچ نے کہا کہ تال میل کی کمی کو بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’اگر کیرالہ میں بہترین نظام ہے تو دیگر ریاستیں اس پر عمل کیوں نہیں کر سکتیں؟ عدالت نے تجویز پیش کی کہ تمام ریاستیں کیرالہ ماڈل اپنائیں اور مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر یکساں نظام تیار کریں، تاکہ پورے ملک میں یکسانیت لائی جا سکے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاملے کی مزید سماعت اگلے روز کے لیے درج کی جائے اور مرکزی داخلہ سکریٹری کو عدالت میں موجود رہنے کا حکم دیا۔