راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما اشوک گہلوت نے جودھ پور کی تاریخی ’سُمیر لائبریری‘ کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے میں ہو رہی تاخیر کو لے کر ریاست کی بھجن لال حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیم اور عوامی بیداری کو فروغ دینے کے تئیں حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے اپنی مہم ’انتظار شاستر: ادھیائے 15‘ کے تحت ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہ ’’ہماری کانگریس حکومت نے جودھ پور کی تاریخی سمیر لائبریری کو ہائی ٹیک، ای-لائبریری اور جدید سہولیات سے لیس کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ عمارت تیار ہے لیکن بی جے پی حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے۔‘‘ اشوک گہلوت کے مطابق جودھ پور کی تاریخی ’سُمیر لائبریری‘ آج بی جے پی حکومت کی کوتاہی کا شکار ہے۔ 7.96 کروڑ کی لاگت سے شاندار عمارت بن کر تیار ہے، لیکن صرف فرنیچر اور فنشنگ کے بجٹ کو روک کر نوجوانوں کے مستقبل پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ تعلیم اور علم سے آخر بی جے پی کو اس قدر پرہیز کیوں ہے؟واضح رہے کہ 1935 میں قائم کی گئی ’سمیر لائبریری‘ بنیادی طور پر جودھ پور کے ’امید ادیان‘ میں واقع پرانے ’سمیر بھون‘ میں تھی۔ 23-2022 کے دوران نئی عمارت کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ منظور کیا گیا تھا۔ حالانکہ بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹلائزیشن اور ای-لائبریری کی سہولیات مبینہ طور پر مکمل ہو چکی ہیں، لیکن اندرونی انتظامات زیر التوا ہونے کی وجہ سے لائبریری اب تک عوام کے لیے نہیں کھل پائی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کی تاخیر عوام کو، خاص طور سے طلبہ کو اور نوجوان قارئین کو سیکھنے کے اہم وسائل تک رسائی سے محروم کرتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ باقی ماندہ کاموں میں تیزی لائیں اور اس لائبریری کو جلد از جلد شروع کریں۔ اشوک گہلوت کا کہنا ہے کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت نہیں چاہتی کہ عوام پڑھنے لکھنے کے تئیں بیدار ہوں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اشوک گہلوت نے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کی قیادت والی ریاستی حکومت کی خامیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ’انتظار شاستر‘ نامی ایک سوشل میڈیا سیریز شروع کی ہے۔