اروناچل ٹھیکہ معاملہ: وزیر اعلیٰ کے قریبی رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا الزام، سپریم کورٹ کا سی بی آئی جانچ کا حکم

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے پیر (6 اپریل) کو سنٹرل بیور آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ اروناچل پردیش میں عوامی کاموں کے ٹھیکے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو کے خاندان سے متعلق مبینہ کمپنیوں کو دیے جانے کے معاملے کی تحقیقات کرے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی ایجنسی کو 2 ہفتے کے اندر تحقیقات شروع کرنے کے لیے کہا ہے۔ ساتھ ہی سی بی آئی کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے میں 16 ہفتوں کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے۔#SupremeCourt to deliver judgment on a PIL seeking a Central Bureau of Investigation (CBI) probe into the alleged award of public works contracts worth around ₹1,270 crore to firms linked to the family members of Arunachal Pradesh Chief Minister Pema Khandu @PemaKhanduBJP pic.twitter.com/28u030NuQE— Bar and Bench (@barandbench) April 6, 2026جسٹس وکرم ناتھ کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ حکم کے تحت ریاست میں یکم جنوری 2015 سے 31 دسمبر 2025 تک عوامی کاموں، ٹھیکوں اور ورک آرڈر کی الاٹمنٹ اور ان کے کاموں کی جانچ کی جائے۔ جسٹس ناتھ نے حکم سناتے ہوئے کہا کہ ’’سی بی آئی اس فیصلے کی تاریخ سے 2 ہفتے کے اندر ابتدائی تحقیقات (پی ای) درج کرے گی اور قانون کے مطابق آگے بڑھے گی۔‘‘واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 17 فروری کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ گزشتہ 10 سالوں میں اروناچل پردیش میں تقریباً 1270 کروڑ روپے کے سرکاری ٹھیکے اور ورک آرڈر وزیر اعلیٰ کھانڈو کے خاندان سے وابستہ 4 کمپنی کو دیے گئے۔ عرضی گزار این جی او ’سیو مون ریجن فیڈریشن‘ اور ’والنٹری اروناچال سینا‘ کی جانب سے پیش وکیل پرشانت بھوشن ریاستی حکومت کے ذریعہ حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ کئی ٹھیکے وزیر اعلیٰ کے خاندان کے افراد کی ملکیت والی کمپنیوں کو دیے گئے۔ ریاست کی جانب سے پیش وکیل نے پہلے دلیل دی تھی کہ یہ عرضی ’اسپانسر شدہ مقدمہ‘ ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش کو وزیر اعلیٰ کے خاندان کی کمپنیوں کے دیے گئے ٹھیکوں سمیت 2015 سے 2025 تک دیے گئے تمام ٹھیکوں کے بارے میں تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا۔ اس مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) میں پیما کھانڈو کو فریق بنایا گیا ہے۔ پیما کھانڈو کے والد دورجی کھانڈو کی دوسری بیوی رنچن ڈریما اور ان کے بھتیجے تسیرنگ تاشی کو بھی معاملے میں فریق بنایا گیا ہے۔ دورجی کھانڈو 2007 سے لے کر اپیل 2011 میں ہیلی کاپٹر حادثہ میں اپنی موت تک اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈریما کی کمپنی ’برانڈ ایگلس‘ کو مفادات کے واضح ٹکراؤ کے باوجود بڑی تعداد میں سرکاری ٹھیکے دیے گئے۔