آسام انتخابات: ملکارجن کھڑگے کا بی جے پی پر سخت حملہ- ’ڈبل انجن حکومت ناکام، عوام کو گمراہ کیا گیا‘

Wait 5 sec.

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے آسام کے سلچر علاقے میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ ریاستی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں براک وادی کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔کھڑگے نے کہا کہ سلچر میں بنیادی ڈھانچے کے کئی اہم منصوبے آج تک مکمل نہیں ہو سکے، جن میں فلائی اوور اور تاراپور ایلیویٹڈ کوریڈور شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاخیر صرف ترقیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی کے لیے ایک بڑا بحران ہے، جس سے طلبہ، مزدور اور مریض سب متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ہر سال آنے والے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا بھی کوئی مستقل حل پیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ صرف انتخابی وعدے کرتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتی۔ آسام معاہدہ، سیلاب سے نجات اور مختلف طبقات کو درج فہرست ذات و قبائل کا درجہ دینے جیسے وعدے آج تک پورے نہیں ہوئے۔ کھڑگے نے کہا کہ مودی حکومت کو صرف بڑے منصوبوں اور نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی فکر ہے۔گھس پیٹھ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالا گیا، جبکہ موجودہ حکومت اس معاملے ناکام رہی ہے۔کھڑگے نے گاندھی خاندان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں نے ملک کی یکجہتی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم بننے کا موقع ٹھکرا کر منموہن سنگھ کو یہ عہدہ دیا، جو کانگریس کی قربانی کی مثال ہے۔انہوں نے وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر عوامی مسائل کو حل نہیں کرتے۔ نوجوانوں کو روزگار دینے، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور نوٹ بندی جیسے فیصلوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ یہ سب وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ریاستی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ آسام کی زمینیں بڑے کاروباری گروپوں کو دی جا رہی ہیں اور مقامی لوگوں کے حقوق نظر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی غریبوں کے نام پر ووٹ لیتی ہے لیکن بعد میں انہیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔کھڑگے نے اپنی تقریر میں کانگریس کی پانچ گارنٹیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں خواتین کو ماہانہ مالی امداد، صحت کی سہولت، زمین کے حقوق اور بزرگوں کے لیے پنشن شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے دیگر ریاستوں میں اپنے وعدے پورے کر کے دکھائے ہیں اور آسام میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا کر کانگریس کو موقع دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی عوام کے حقوق اور مستقبل کی ہے اور عوام کی طاقت ہی فیصلہ کرے گی کہ آسام میں کس کی حکومت بنے گی۔