سعودی عرب نے تاریخ رقم کردی

Wait 5 sec.

ریاض(5 اپریل 2026): سعودیہ نے آرٹیمس 2 مشن کے تحت اپنا سیٹلائٹ ’’شمس‘‘ چاند پر روانہ کر دیا۔سعودی خلائی ایجنسی نے آرٹیمس ٹو مشن کے تحت اسپیس لانچ سسٹم کے ذریعے سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے اور اس کے ساتھ رابطہ قائم ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ آرٹیمس پروگرام کے تحت خلا میں بھیجا جانے والا پہلا عرب مشن ہے، جو خلائی سائنس کے میدان میں مملکت کی بڑی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ ‘شمس’ کا بنیادی مقصد خلائی موسم کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہے۔ یہ سیٹلائٹ زمین پر شمسی سرگرمیوں اور تابکاری کے اثرات کی نگرانی کرے گا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا قومی مشن ہے جو خاص طور پر خلائی موسم کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ مستقبل میں خلا بازوں کے سفر کو محفوظ بنایا جا سکے اور انسانیت کی خدمت کی جا سکے۔اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ شمس کو مکمل طور پر سعودی عرب کے اندر مقامی انجینئرز نے اپنی مہارتوں کے ذریعے تیار کیا ہے۔ یہ کامیابی سعودی وژن 2030 کے ان اہداف کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبے میں خود کفیل بنانا ہے۔سعودی وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، عبداللہ السواحہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس تاریخی کارنامے پر وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ناسا کے ساتھ پہلا عرب مشن چاند کی جانب بھیجنا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سعودی تحقیقی لیبارٹری خلائی موسم کی نگرانی اور تابکاری کی پیمائش کر کے خلائی سفر کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ سعودی حکام نے اس سائنسی مشن کے کامیاب آغاز پر گہرے فخر کا اظہار کیا ہے۔