ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے بیانات سے دنیا حیران و پریشان

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے بیانات سے دنیا حیران پریشان ہیں ، ٹرمپ ایک لمحے میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں دوسرے لمحے میں ایران سے معاہدے کی خوشخبری سنادیتے ہیں، اب یقین کریں تو کس بیان پر کریں۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق تیزی سے بدلتے ہوئے بیانات نے عالمی سطح پر بے یقینی اور حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ایک جانب صدر ٹرمپ ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب چند ہی گھنٹوں بعد تہران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کی نوید بھی سنا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ سوشل میڈیا پیغام میں انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ایران کو دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے اور اب الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا یا آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو امریکہ ایسی کارروائی کرے گا جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔صدر نے منگل کے روز کو ایران میں "بجلی گھروں اور پلوں کی تباہی کا دن” قرار دیتے ہوئے ایرانی قیادت کے خلاف غیر شائستہ زبان بھی استعمال کی۔حیران کن طور پر ان سخت دھمکیوں کے فوراً بعد فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ پوری دنیا اس وقت حیرت کی تصویر بنے وائٹ ہاؤس کو دیکھ رہی ہے بلکہ سپرپاور ملک کے صدر کی ذہنی کیفیت پر ہنس رہی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ "تضاد سے بھرپور” حکمتِ عملی شاید ایران پر دباؤ بڑھانے کا ایک طریقہ ہے، لیکن اس سے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔اب دنیا اس مخمصے میں ہے کہ صدر کے کس بیان کو سنجیدہ لیا جائے: جنگ یا امن؟