تہران (06 اپریل 2026):ایران کی نیوی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز نے ناقابل واپسی اسٹریٹجک تبدیلیاں دیکھ لی ہیں اور یہ کبھی اپنے سابقہ صورت حال میں واپس نہیں آئے گی، خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے لیے، کیوں کہ ایرانی افواج خلیج فارس میں نئے سیکیورٹی انتظام کے لیے آپریشنل تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کی رات X اکاؤنٹ پر جاری ایک سرکاری بیان میں پاسداران انقلاب کی نیوی کمانڈ نے کہا کہ اس اہم بین الاقوامی پانی کے راستے پر غیر ملکی بالا دستی کا دور بالکل ختم ہو چکا ہے۔کمانڈ نے زور دیا کہ حالیہ علاقائی حالات نے ایک نئی حقیقت قائم کر دی ہے، اب امریکا کی قیادت والی غیر ملکی طاقتیں ایران کے قریبی سمندری علاقے میں اپنی مرضی نہیں چلا سکتیں، وہ بلا روک ٹوک اثر و رسوخ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہی ہیں۔نیوی نے کہا ’’آبنائے ہرمز کبھی اپنے سابقہ حالات میں واپس نہیں آئے گی، خاص طور پر امریکا اور صہیونی انتظامیہ کے لیے۔‘‘ انھوں نے ایران کی خودمختاری اور خلیج فارس کی سیکیورٹی کے تحفظ کے عزم کو دہرایا، اور کسی بھی غیر مستحکم مداخلت کے مقابلہ کا اعلان کیا۔تنگه هرمز هرگز به روال سابق باز نخواهد گشت مخصوصا برای آمریکا و اسرائیل.نیروی دریایی سپاه در حال تکمیل مقدمات عملیاتیِ #طرح_ابلاغی مسئولان ایران برای نظم جدید خلیج فارس است.— فرماندهی نیروی دریایی سپاه (@niroo_daryayi) April 5, 2026 بیان میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب نیوی نے ایک جامع منصوبے کی آپریشنل تیاریوں کے آخری مراحل مکمل کر لیے ہیں، یہ منصوبہ پہلے سینیئر ایرانی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا، جس کا مقصد خلیج فارس میں ایک نئی مقامی سیکیورٹی ترتیب قائم کرنا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ خطے کے استحکام اور سیکیورٹی کی ذمہ داری خود ساحلی ممالک کے پاس ہو۔ یہ سب کچھ بغیر کسی اشتعال انگیز یا غیر قانونی غیر ملکی موجودگی کے کیا جائے گا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںپریس ٹی وی کے مطابق ان تیاریوں میں ایران کی بحری تعیناتی میں اضافہ، نگرانی کے جدید نظام کی تنصیب، فوری مربوط ردعمل کی صلاحیتوں کی تشکیل شامل ہیں، یہ سب ایران کی آبی حدود کے تحفظ کے لیے ہیں، جس کا مقصد آبنائے کے ذریعے توانائی کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانا بھی ہے۔ایرانی فوجی حکام نے بار بار زور دیا کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادی اس نئے انتظام کو چیلنج کرنے یا دوبارہ اپنی فوجی بالا دستی نافذ کرنے کی کوشش کریں گے تو ایران کی دفاعی افواج کی طرف سے انھیں تیز، فیصلہ کن اور بھرپور جواب ملے گا۔ واضح رہے کہ ایرانی نیوی کمانڈ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایران کو دھمکی دی کہ اگر وہ آبنائے ہرمز بند رکھتا ہے تو وہ ’’دوزخ‘‘ برپا کر دیں گے، اور کہا کہ امریکا اس کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دے گا۔ادھر ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 15 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، یہ جہاز ایران سے اجازت لے کر آبنائے ہرمز سے گزرے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت اب بھی 90 فی صد کم ہے۔