ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کیا جائے، روس کا امریکا کو انتباہ

Wait 5 sec.

ماسکو(6 اپریل 2026): روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ کہ واشنگٹن کو "الٹی میٹم کی زبان” ترک کر کے مذاکرات کی طرف لوٹنا چاہیے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اتوار کے روز اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ واشنگٹن کو الٹی میٹم کی زبان ترک کر کے مذاکرات کی طرف لوٹنا چاہیے۔روسی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق لاوروف کے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر دی گئی اس دھمکی کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔ماسکو کی جانب سے لاوروف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی فریق نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے گرد کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد ریاستوں کی جانب سے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکا کو الٹی میٹم کی زبان ترک کرنی ہوگی اور صورتحال کو دوبارہ مذاکرات کی پٹری پر لانا ہوگا۔لاوروف اور عراقچی نے واشنگٹن سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ سویلین انفراسٹرکچر پر غیر قانونی حملے بند کرے، جیسا کہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ، جہاں روسی عملہ بطور ٹیکنیشن کام کر رہا ہے۔