اسرائیل ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے کیلیے امریکی گرین سگنل کا منتظر

Wait 5 sec.

تل ابیب: اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کیلیے اسرائیل کو امریکا کے اشارے کا انتظار ہے۔غیر ملکی نیوز ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے اسرائیل نے ایران کے بجلی گھروں پر حملے کی تیاری کررکھی ہے۔ اسرائیلی اہلکار نے بتایا اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں پر حملہ ممکن ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے ٹرمپ کے مشیروں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنانے کی حمایت کی اور کہا کہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بناناضروری ہے، جنگ میں انھیں فوجی اہداف ہی تصورکیا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق اخبار نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے معاونین کے دلائل قبول کرلیے ہیں۔دوسری جانب امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے، جو جنگ کے مستقل خاتمے کی طرف لے جا سکتی ہے۔روئٹرز کے مطابق ایگزیوس نے اتوار کو امریکا، اسرائیل اور خطے کے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ثالث کاروں نے ایران امریکا معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، اور ایک گروپ نے ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے۔روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواستوں پر فوری ردعمل نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق ثالثین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی شامل ہوگی، جس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںرپورٹ کے مطابق اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے یا اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سامنا کرنے کی آخری تاریخ منگل کی شام ہے۔