گجرات کے احمد آباد میں گزشتہ برس ہوئے دردناک طیارہ حادثہ میں جان گنوانے والوں کے لواحقین کو تقریباً 10 ماہ گزرنے کے بعد بھی کئی سوالوں کے مکمل جواب نہیں مل سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان متاثرہ خاندانوں نے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں معاوضہ نہیں بلکہ سچ چاہئے۔ انہیں جاننا ہے کہ آخر وہ کون سی غلطی تھی جس نے ایک پل میں 260 جانیں لے لیں۔احمد آباد طیارہ حادثہ: چھ ماہ بعد بھی سوال برقرار، متاثرہ خاندانوں کے وکیل نے بیان کی تحقیقات کی پیش رفتایئر انڈیا طیارہ حادثے کے متاثرین کے سوگوار خاندانوں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) اور بلیک باکس ڈیٹا جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 171 ((بوئنگ 787-8 طیارہ) جو لندن جارہی تھی، وہ 12 جون 2025 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل گراؤنڈ میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد آگ لگنے کی وجہ سےجہاز میں سوار 242 میں سے 241 لوگوں اور باقی وہاں موجود دیگر 19 افراد کی جان چلی گئی تھی۔STORY | Families of AI171 crash victims seek release of black box data, write to PMTen months after the tragic Air India plane crash that killed 260 persons, bereaved families of the victims have written to Prime Minister Narendra Modi, urging the release of the Cockpit Voice… pic.twitter.com/kXlHUCokYL— Press Trust of India (@PTI_News) April 5, 2026متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تفصیل عام نہیں کی جا سکتی تو کم از کم ان کے ساتھ نجی طور پر شیئر کی جائے۔ متاثرین کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی ان کا غم کم نہیں ہوگا۔ یہ صرف ایک تکنیکی مطالبہ نہیں ہے بلکہ جذباتی انصاف کی اپیل بھی ہے۔ اہل خانہ نے اپنے خط کی کاپیاں شہری ہوابازی حکام، اے اے آئی بی اور ڈی جی سی اے کے علاوہ گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل کو بھی بھیجی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرین اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہتے ہیں اور حکومت سے ہر سطح پر شفافیت کی امید کر رہے ہیں۔ متوفیوں کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ صرف بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر ہی حادثے کی اصل وجہ بتا سکتے ہیں۔