افغانستان میں طالبان کا طرزِ حکومت غیر نمائندہ اور آمرانہ ہے، عالمی جریدے  کی رپورٹ

Wait 5 sec.

کولمبو(5 اپریل 2026): عالمی جریدے سری لنکا گارڈین نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ڈھانچے اور طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کی ہے۔عالمی جریدے سری لنکا گارڈین نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ڈھانچے اور طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک سخت گیر اور غیر نمائندہ نظام قرار دیا ہے۔جریدے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں شریعت کے نام پر ایسا نظام قائم کیا گیا ہے جہاں تمام تر اقتدار ہیبت اللہ اخونزادہ اور ان کے چند قریبی ساتھیوں تک محدود ہے، جبکہ ریاستی ادارے مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں نہ تو انتخابات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کوئی عوامی نمائندگی موجود ہے، بلکہ حکمرانی مکمل طور پر آمرانہ طرز پر چلائی جا رہی ہے۔ فیصلہ سازی کا عمل قندھار کے ایک مخصوص اور مختصر حلقے تک محدود ہے، جہاں شفافیت اور احتساب کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق وزراء اور سرکاری ادارے بے اختیار ہیں اور تمام فیصلے مرکزی قیادت کے جاری کردہ فرمانوں کے تابع ہیں، سری لنکا گارڈین نے مزید لکھا ہے کہ طالبان حکومت میں اختلافِ رائے کو سختی سے دبایا جاتا ہے اور عوام کی خاموشی کو زبردستی "رضامندی” قرار دیا جاتا ہے۔جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کا موجودہ طرزِ حکومت اسلامی اصولوں سے بھی متصادم ہے، جہاں خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے بے دخل کر کے ملک کی نصف آبادی کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔رپورٹ میں عدالتی نظام کو غیر مساوی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہریوں کو سخت سزاؤں کا سامنا ہے، جبکہ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی پر پابندیاں لگا کر احتساب کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔جریدے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد میں مداخلت اور وسائل کا غلط استعمال معاشی بدحالی کو مزید بڑھا رہا ہے، اور یہ غیر نمائندہ طرزِ حکمرانی نہ صرف افغانستان بلکہ خطے اور پڑوسی ممالک کے لیے بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔