امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ کے درمیان قومی راجدھانی سے ملحق اترپردیش کے گریٹرنوئیڈا میں موسٹر سائیکل اور دیگر گاڑیوں میں پٹرول کی جگہ پانی ڈالے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ سیکٹر پی آئی 1 کے ایک پٹرول پمپ پر پیش آیا جہاں پر ہنگامہ کرنے والے صارفین کی گاڑیوں میں پٹرول کے بجائے پانی ملنے کی بات سامنے آنے پر لوگوں نے جم کر ہنگامہ کیا۔ اب گاڑی مالکان نے نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لوگوں کو سمجھا بجھا کر معاملہ ختم کرایا۔پٹرول اور ڈیزل کے بعد سی این جی بھی ہوئی مہنگی، ’ٹورنٹ گیس‘ نے بڑھائی قیمتاطلاعات کے مطابق ہفتے کو پٹرول پمپ سے تیل ڈلوانے کے بعد نکلے تقریباً 25 سے زائد گاڑیاں کچھ ہی دوری پر جاکر اچانک بند ہوگئیں۔ جن میں کار، اسکوٹی اور موٹر سائیکل شامل تھیں۔ گاڑیوں کے بند ہونے پر میکینک بلائے گئے۔ جانچ کے بعد پتا چلا کہ گاڑی کی ٹنکی پوری طرح پانی سے بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے ثبوت کے طور پر بوتلوں اور بالٹیوں میں بھرا پانی ملا ہوا پٹرول دکھایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پٹرول پمپ آپریٹروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی وجہ سے انجن سیز ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں۔ایندھن بحران: پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں کٹوتی شروعاس دوران کئی لوگ اپنی گاڑیوں سے ہریدوار، دہلی اور گڑگاؤں کے لیے نکلے تھے جنہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں ہنگامے کی اطلاع ملنے پر پٹرول پمپ پرافراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ وہیں پانی ملا تیل کا الزام لگاکر لوگوں نے کئی ویڈیو بنائے اورانہیں سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے پٹرول پمپ کی جانچ کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ شکایت کی بنیاد پر انتظامیہ ضروری جانچ کررہی ہے۔