واشنگٹن (06 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر امریکی سیاست دانوں نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔سینیٹ میں اقلیتی قائد چک شومر نے کہا کہ ایسے میں جب سب لوگ ایسٹر منانے جا رہے ہیں ٹرمپ سوشل میڈیا پر بے قرار پاگل کی طرح بکواس کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی سابق زبردست حامی ٹیلر گرین نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کا ہر وہ شخص جو خود کو مسیحی سمجھتا ہے اسے صدر کے پاگل پن میں مداخلت کرنی چاہیے۔امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو ایسٹر کی ان چھٹیوں میں امریکی آئین میں پچیسویں ترمیم لاگو کرنے کے لیے قانون دانوں سے بات کر رہے ہوتے۔ پچیسویں ترمیم کے تحت صدر کی معذوری کی صورت میں کابینہ کے اکثریتی فیصلے سے اس کے اختیارات نائب صدر سنبھال سکتا ہے۔ڈیموکریٹ کانگریس مین گریگری میکس نے لکھا کہ ٹرمپ نے پوسٹ میں غیر مہذب اور بے ربط زبان استعمال کی، یہ کوئی خوبی نہیں ہے، یہ غلط اندازوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے، امریکا کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے، اور سفارت کاری کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںامریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا دھمکی آمیز بیان آبنائے ہرمز نہیں کھول سکتا، ایران سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، امریکی عوام مزید بوجھ برداشت نہ کریں۔سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے اقدامات کو ’’واضح جنگی جرم‘‘ قرار دے دیا، انھوں نے کہا ریپبلکن قیادت ٹرمپ کو روکے، شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرم ہیں۔ سینیٹر الیسا سلاٹکن نے بھی کہا شہریوں کو نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہے، ٹرمپ کے اقدامات امریکی فوجیوں کو قانونی اور جانی خطرات میں ڈال رہے ہیں۔سینیٹر برائن شیٹز کا کہنا تھا کہ شہری انفراسٹرکچر پر بمباری جنگی جرم ہے، ٹرمپ کے منصوبوں کے خلاف فوری آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔