امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کا اثر پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی گیس کے بعد اب کولڈ اسٹوریج انڈسٹری اور زرعی معیشت پر صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ امونیا گیس کی قیمت دوگنی ہونے کی وجہ سے علی گڑھ سے وارانسی تک ریاست بھر میں تقریباً 2500 کولڈ اسٹوریج کا آپریشن متاثر ہوا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر آلو پیدا کرنے والے اضلاع پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ریاست کے آگرہ میں کام کرنے والے 327 کولڈ اسٹوریج پورے موسم میں اوسطاً 1.5 سے 2 ٹن امونیا گیس استعمال کرتے ہیں۔ آگرہ کولڈ اسٹوریج ایسوسی ایشن کے صدر بھویش اگروال نے بتایا کہ ڈیلرز کو 20 مارچ کے آس پاس امونیا کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت قیمتیں 300 سے 350 روپے تک پہنچ گئی تھیں لیکن اب امونیا کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حالانکہ عام دنوں کے 60 سے 80 روپئے فی کلو قیمت کے مقابلے 100 سے 130 روپئے فی کلو میں مل رہی ہے۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سبب ہندوستان کی بندرگاہوں پر بھاری جام، سمندر میں پھنسا باسمتی چاول، پیاز سمیت کروڑوں روپے کا ساماناس کے علاوہ مین پوری میں قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں۔ کولڈ اسٹوریج آپریٹر پیوش چندیل نے بتایا کہ ایک کولڈ اسٹوریج آلو ذخیرہ کرنے کے لیے فی موسم تقریباً 1800 کلو گرام امونیا گیس استعمال کرتا ہے۔ ضلع میں 67 کولڈ اسٹوریج کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح فیروز آباد میں کولڈ اسٹوریج ایسوسی ایشن کے صدر ارون کمار چندیل نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے اس بار امونیا گیس کی شدید قلت ہوئی۔ گزشتہ سال جو امونیا گیس 70 روپے فی کلو میں دستیاب تھی، اسے اب 140 روپے فی کلو میں خریدنا پڑا ہے۔کانپور میں قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امونیا گیس، جو پہلے 90 رتوپئے سے 95 روپئے فی کلو دستیاب تھی، اب 109 سے 110 روپئے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کولڈ اسٹوریج کے کام کرنے پربراہ راست اثر ڈال رہا ہے، جس سے آپریٹرز، سبزی فروشوں اور کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ شہر اور آس پاس کے اضلاع میں تقریباً 100 کولڈ اسٹوریج ہیں تاہم ابھی تک کرائے میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ اُدھر اناؤ میں گیس کے لیے 110 روپے ادا کرنے پڑ رہے۔ ضلع میں 24 کولڈ اسٹوریج ہیں۔ حالانکہ ضلع باغبانی افسر سریندر رام بھاسکر کا کہنا ہے کہ امونیا گیس کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔مشرق وسطیٰ میں بحران کا اثر! راجستھان میں برآمدات ٹھپ، جے پور میں پھنس گئے 2,000 سے زیادہ کنٹینرفرخ آباد میں ہر کولڈ اسٹور کو پورے سیزن کے لیے تقریباً 2000 کلو گرام امونیا گیس کی ضرورت ہوتی ہے۔ کولڈ اسٹوریج کے مالک اجے گنگوار سنو نے بتایا کہ ضلع میں امونیا ری فلنگ پلانٹ بھی ہے۔ پہلے امونیا گیس بکنگ کے 24 گھنٹے کے اندر مل جاتی تھی لیکن اب اس میں 48 گھنٹے لگتے ہیں، ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ اٹاوہ میں امونیا تین سے چار گنا قیمت پر دستیاب ہے۔ دریں اثنا، قنوج میں کولڈ اسٹوریج کے مالکان نے بتایا کہ تقریباً 15 دن پہلے ایک مسئلہ تھا، لیکن اب یہ مزید مہنگا ہو رہا ہے۔ میرٹھ، سہارنپور، بجنور، شاملی، مظفر نگر اور باغپت میں امونیا گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تمام کولڈ اسٹوریج کام کر رہے ہیں۔علی گڑھ میں امونیا گیس کا 60 کلو والا سلنڈر جو پہلے 7200 روپے میں ملتا تھا، اب 15000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس اچانک اضافے نے آپریٹنگ اخراجات کے پورے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کولڈ اسٹوریج اونرز ایسوسی ایشن کے صدر گرراج گوڈانی نے کہا کہ کولڈ اسٹوریج کو صنعت کے طور پر نہیں بلکہ زراعت سے متعلق ضروری خدمات کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ بڑھتی لاگت سے پورا نظام متاثر ہوررہا ہے۔