قومی راجدھانی دہلی میں پیر کی صبح اس وقت ایک بار پھر افراتفری مچ گئی جب دہلی یونیورسٹی کے دو ممتاز کالجوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی موصول ہوئی۔ کالج کے میل پر بھیجے گئے دھمکی آمیز پیغام کے بعد دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج اور مرانڈا کالج کو فوری طور پر خالی کر الیا گیا۔ بم کی دھمکی کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے نارتھ کیمپس پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا اور اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس کے ساتھ بم اسکواڈ اور فائربریگیڈ موقع پر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔ اس کے علاوہ پنجاب، چندی گڑھ کے کئی تعلیمی اداروں کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی۔دہلی اسمبلی، میٹرو اور اسپیکر کو بم سے اُڑانے کی دھمکی، بجٹ اجلاس کے دوران مچی کھلبلیاطلاعات کے مطابق دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کے کالجوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے پر دہلی پولیس حرکت میں آگئی۔ بم اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کو فوری طور پر کالج کیمپس روانہ کر دیا گیا۔ سیکورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور کسی بھی مشکوک چیز کا پتہ لگانے کے لیے کالج کے چپے چپے کی تلاشی شروع کردی۔ ابھی تک تلاشی کے دوران کوئی دھماکہ خیز مواد یا مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔ جانچ ایجنسیاں اپنی ضروری کارروائی میں مصروف ہیں۔قومی راجدھانی میں پھر افراتفری، مختلف علاقوں میں 9 بڑے اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیپولیس کے مطابق دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج اور مرانڈا کالج کو ای میل کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی ملی تھی۔ اس اطلاع کے بعد تمام طلباء، اساتذہ اور عملے کو فوری طور پر باہر نکال لیا گیا۔ دہلی پولیس اس معاملے کی مکمل جانچ کر رہی ہے۔ دھمکی آمیز ای میل کے ذرائع کا پتہ لگانے کے لیے سائبر سیل کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی دہلی کے مختلف اسکول،کالجوں اور عدالتوں کو بم کی دھمکیاں دی جاچکی ہیں۔ لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ ہر باریہ دھمکیاں افواہ ہی ثابت ہوئی ہیں۔بتادیں کہ دہلی کے ساتھ ساتھ چنڈی گڑھ یونیورسٹی کو بھی بم کی دھمکی دی گئی ہے۔ایک ای میل کے ذریعہ گاندھی بھون سے لے کر سیکریٹریٹ تک میں دھماکہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔جالندھر میں بھی کئی مشہور اسکولوں کو اسی طرح بم سے اڑانے کی دھمکی والے ای میل موصول ہوئے ہیں۔ ان میں دہلی پبلک اسکول، میئر ورلڈ اسکول اورایم جی این اسکول شامل ہیں۔ چنڈی گڑھ یونیورسٹی کو ملے ای میل میں لکھا ہے کہ’’ اپنے بچوں کو بچاؤ، خالصتان والے بچوں کے خلاف نہیں، ہندوستان کی مودی سرکار کو تباہ کریں گے‘‘۔ ای میل میں 14 اپریل کو بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔