دہلی سے چل رہی پڈوچیری کی حکومت، بی جے پی-سنگھ نظریات تھوپے جا رہے، ہر جگہ کمیشن خوری: راہل گاندھی

Wait 5 sec.

پڈوچیری میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوم سیوک سنگھ پر سخت ترین حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ طاقتیں ریاست پر اپنے نظریات مسلط کر رہی ہیں اور مقامی عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ پڈوچیری کی موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ دہلی سے کنٹرول ہونے والی حکومت ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’یہ حکومت پڈوچیری کے لوگوں کی نہیں بلکہ دہلی کی حکومت ہے‘‘، اور اس کے ذریعے بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ایجنڈے کو نافذ کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کے وسائل کو بڑے صنعتکاروں کے حوالے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر گوتم اڈانی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ حکومت پڈوچیری کے اثاثوں کو اڈانی گروپ کے حوالے کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بجلی سمیت دیگر اہم وسائل بھی نجی ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔راہل گاندھی نے لیفٹیننٹ گورنر کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اصل اختیارات غیر منتخب افراد کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کے مطابق یہ جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے اور عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے، جس کی وجہ سے مقامی قیادت کو ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے مطابق یہ بھی ایک منظم کوشش ہے تاکہ عوام کی براہ راست نمائندگی ختم کی جا سکے۔صنعتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پڈوچیری میں صنعتی سرگرمیاں مسلسل زوال کا شکار ہیں اور سیکڑوں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے جعلی ادویات کے مسئلے کو بھی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بڑے پیمانے پر نقلی دوائیں تیار ہو رہی ہیں اور حکومت اس پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے، جو کہ عوام کی صحت کے ساتھ خطرناک کھیل ہے۔راہل گاندھی نے بدعنوانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ہر سرکاری کام میں کمیشن خوری عام ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سڑکوں، اسکولوں، پانی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں 30 فیصد تک کمیشن لیا جا رہا ہے، جس نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔انہوں نے سماجی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے قریب شراب کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں، جس سے معاشرتی توازن بگڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے قانون و نظم کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ خواتین اور بچے خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے کانگریس کے وعدوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے پر ہر بے روزگار نوجوان کو ماہانہ 2000 روپے دیے جائیں گے اور سرکاری و نجی شعبوں میں 30 ہزار نئی نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے خواتین کے لیے بسوں میں مفت سفر، سرکاری ملازمتوں کے لیے عمر کی حد 40 سال کرنے اور ہر خاندان کو 20 لاکھ روپے تک ہیلتھ انشورنس دینے کا وعدہ بھی کیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس حکومت بننے کے چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے گی تاکہ نئی قیادت سامنے آ سکے۔ آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس اور اس کے اتحادی امیدواروں کی حمایت کریں تاکہ ایک ایسی حکومت قائم ہو جو واقعی پڈوچیری کے عوام کی نمائندگی کرے۔