پانی ہاٹی انتخاب: ٹی ایم سی کی شکایت کے بعد الیکشن کمیشن کی کارروائی، سیکٹر اسسٹنٹ برطرف، شوکاز نوٹس جاری

Wait 5 sec.

کولکاتا: مغربی بنگال کے اہم اور حساس پانی ہاٹی اسمبلی انتخاب سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ٹی ایم سی کی شکایت کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے سیکٹر اسسٹنٹ اتنو چکربورتی کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کے خلاف بدعنوانی اور فرائض میں کوتاہی پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ اس اقدام نے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ مذکورہ افسر ایک مخصوص سیاسی جماعت، یعنی بی جے پی، کی انتخابی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی الیکشن کمیشن کو پیش کی، جس میں اتنو چکربورتی کو مبینہ طور پر بی جے پی کے جھنڈے اور انتخابی مواد کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سیاسی ماحول میں ہلچل مچ گئی اور اپوزیشن نے انتخابی نظام کی غیر جانبداری پر سوال اٹھانے شروع کر دیے۔الیکشن کمیشن نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیا اور ابتدائی جانچ کے بعد افسر کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ساتھ ہی انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا گیا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔خیال رہے کہ پانی ہاٹی حلقہ ان دنوں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کا جذباتی پس منظر بھی ہے۔ بی جے پی نے اس نشست پر ایک ایسی خاتون کو امیدوار بنایا ہے جو گزشتہ سال آر جی کر میڈیکل کالج میں قتل ہونے والی ایک نوجوان ڈاکٹر کی والدہ ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے ریاست بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا تھا اور خواتین کی سلامتی کا مسئلہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا تھا۔دوسری جانب ٹی ایم سی نے تیرتھنکر گھوش کو میدان میں اتارا ہے، جو سابق رکن اسمبلی نرمل گھوش کے بیٹے ہیں۔ اس کے علاوہ بائیں بازو اور کانگریس کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں، لیکن اصل مقابلہ حکمراں جماعت اور بی جے پی کے درمیان ہی مانا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا جانبداری کا الزام سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔سیکٹر اسسٹنٹ جیسے افسران کا کردار انتخابی عمل میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں حساس پولنگ اسٹیشنوں کی نشاندہی، ووٹروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے مکمل کرانا شامل ہے۔ ایسے میں اگر کوئی افسر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ پایا جائے تو یہ نہ صرف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے انتخابی نظام کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔؎الیکشن کمیشن نے اسی دوران ایک اور واقعے میں بھی کارروائی کی ہے۔ مرشدآباد ضلع کے بہرام پور تھانے کے انچارج کے خلاف بھی فرائض میں کوتاہی پر تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان ادھیر رنجن چودھری کی انتخابی مہم اور نامزدگی کے عمل کے دوران غیر قانونی رکاوٹیں پیدا ہونے دیں۔اس معاملے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے کمیشن نے ترنمول کانگریس کے چار رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جن پر اسی واقعے سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی کارروائیوں کے باوجود یہ سوال باقی ہے کہ کیا یہ اقدامات عوام کے خدشات کو مکمل طور پر دور کر پائیں گے یا نہیں۔ماضی میں بھی مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران اس نوعیت کے تنازعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر بحث کو جنم دیا۔ اس بار بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں، اور پانی ہاٹی جیسے حساس حلقے میں ہر قدم کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔فی الحال تمام نظریں الیکشن کمیشن کی آئندہ کارروائی اور افسر کے جواب پر مرکوز ہیں۔ اگر کمیشن اس معاملے میں سخت اور شفاف کارروائی کرتا ہے تو اس سے نہ صرف موجودہ تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل کے انتخابات کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم ہو سکتی ہے۔