انڈین پریمیرلیگ2026 کے 11ویں مقابلے میں رائل چیلنجرز بنگلورونےچنئی سپر کنگز کو 43 رنز سے شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں بنگلورو کی ٹیم نے بیٹنگ میں زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے 250 رنز کا بڑا اسکور کھڑا کیا، جو کہ ان کی آئی پی ایل تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔ٹاس جیت کر چنئی سپر کنگز نے پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا، لیکن یہ فیصلہ ان کے لیے غلط ثابت ہوا۔ بنگلورو کے بلے بازوں نے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا۔ فل سالٹ نے 46 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط شروعات فراہم کی، جبکہ ویراٹ کوہلی نے بھی تیز کھیلتے ہوئے 28 رنز بنائے۔ تیسرے نمبر پر آنے والے دیو دت نے شاندار نصف سنچری اسکور کی اور 29 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔میچ کے آخری اوورز میں رجت پاٹیدار اور ٹم ڈیوڈنے دھواں دار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے آخری 29 گیندوں پر 99 رنز جوڑ کر ٹیم کا اسکور 250 تک پہنچا دیا۔ پاٹیدار نے 19 گیندوں پر ناقابل شکست 48 رنز بنائے، جبکہ ٹم ڈیوڈ نے 25 گیندوں پر 70 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔251 رنز کے ہدف کے تعاقب میں چنئی سپر کنگز کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ اوپنرز سنجو سیمسن اور ریتو راج گائکواڈ جلد ہی آؤٹ ہو گئے، جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والے آیوش مہاترے بھی صرف ایک رن بنا سکے۔ ابتدائی تین وکٹیں محض 30 رنز پر گرنے سے ٹیم دباؤ میں آ گئی، جو ان کی شکست کی بڑی وجہ بنی۔درمیانی اوورز میں سرفراز خان نے کچھ مزاحمت دکھائی اور 25 گیندوں پر 50 رنز بنائے، تاہم وہ اپنی اننگز کو زیادہ دیر تک جاری نہ رکھ سکے اور کرونل پانڈیا کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد شیوم دوبےبھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ آخری لمحات میں پرشانت ویر اور جیمی اورٹن کے درمیان 57 رنز کی شراکت نے کچھ امید ضرور جگائی، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی چنئی کی واپسی کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ پوری ٹیم 207 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔بنگلور کی اس جیت کے ساتھ وہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست پہنچ گئی ہے، جہاں اس نے اپنے دونوں میچ جیت کر 4 پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں اور اس کا نیٹ رن ریٹ +2.501 ہے۔ دوسری جانب چنئی سپر کنگز کی یہ مسلسل تیسری شکست ہے، اور ٹیم -2.517 کے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ جدول میں آخری نمبر پر موجود ہے۔چنئی کی گیندبازی بھی خاصی مہنگی ثابت ہوئی۔ اہم بولرز نے کافی رنز دیے، جس کی وجہ سے بنگلورو کو بڑا اسکور بنانے میں آسانی ہوئی۔ مجموعی طور پر یہ میچ بنگلورو کی مکمل برتری کا مظہر رہا، جہاں بیٹنگ، بولنگ اور حکمت عملی ہر شعبے میں انہوں نے حریف ٹیم کو پیچھے چھوڑ دیا۔