تہران (06 اپریل 2026): ایرانی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکی مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی صدر بیانات جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہیں، ایران کی توانائی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی ناقابل قبول ہے، ایسے حملے پوری آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے برابر ہوں گے۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہم کسی بھی ایسے حملے کا جواب اسی انداز میں دیں گے، ہماری مسلح افواج نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو ہم بھی اسی نوعیت کا جواب دیں گے۔انھوں نے کہا ہماری مسلح افواج کسی بھی ایسے مماثل بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گی جو امریکا کی ملکیت ہو، یا کسی بھی طرح امریکا سے متعلق ہو، یا ایران کے خلاف اس کی جارحیت میں معاون ہو۔ یہ کوئی ایسا اقدام نہیں ہوگا جو ہم ازخود یا اپنی مرضی سے کریں گے بلکہ یہ ہماری دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہوگا، ان کے غیر قانونی اقدام کے جواب میں۔ایک انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے مزید کہا میرا خیال ہے کہ امریکی عوام اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ ان کی جنگ نہیں ہے، یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا انتخاب امریکی حکومت نے خود کیا ہے، ممکنہ طور پر ہمارے خطے میں ایک نسل کشی کرنے والی حکومت کی جانب سے۔ یہ حقیقت کہ امریکا کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کی ایران کے خلاف اس جارحانہ جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںترجمان نے کہا ہر کوئی، نہ صرف ہمارے خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی، بشمول امریکا کے، اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ جنگ غیر قانونی ہے۔ یہ ایک تہذیبی ریاست پر بلاجواز مسلط کی گئی جنگ ہے۔ یہ جنگ ایک جھوٹ پر مبنی ہے، وہ جھوٹ کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کر رہا ہے، حالاں کہ ایسا کبھی نہیں تھا۔ یہ جھوٹ کہ ایران کی جانب سے امریکی عوام کے لیے کوئی فوری خطرہ موجود تھا، یہ سراسر غلط ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا وہ جانتے ہیں کہ ایران کی طرف سے امریکا کو کوئی ایسا خطرہ نہیں تھا، یہ جھوٹ کہ وہ صرف ایرانی عوام کی مدد کرنا چاہتے تھے، ہاں، وہ ایرانیوں کی مدد موت اور تباہی کے ذریعے کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ہی واقعے میں، جسے وہ واقعہ کہتے ہیں، اصل میں یہ کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تھا، مناب شہر کے ایک ابتدائی اسکول پر۔انھوں نے کہا اسی دن انھوں نے فارس کے شہر لامِرد میں ایک اسپورٹس ہال کو بھی نشانہ بنایا، جس میں 21 افراد مارے گئے۔ اس طرح ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں انھوں نے 200 سے زائد معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قتل کیا۔ تو یہ امریکی حکومت کا طرزِ عمل ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ جنگی جرائم امریکا کے نام کے ساتھ درج کیے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عوام ان مظالم کی حمایت نہیں کرتے، نہ ہی ان کی منظوری دیتے ہیں، بلکہ وہ ان کے خلاف ہیں۔ترجمان نے کہا ’’امریکی حکومتیں گزشتہ 48 برسوں سے ایران کو دھمکیاں دیتی رہی ہیں۔ ایرانیوں نے اپنے جائز راستے پر قائم رہنے کے لیے انتہائی ثابت قدمی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، جو کہ اپنے حقِ خودارادیت، اپنی خودمختاری اور اپنی عزت و وقار کا تحفظ ہے۔‘‘انھوں نے مزید کہا یہ دھمکیاں محض ایک مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ کھلے عام جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اکسانا ہے، اور میں تو یہاں تک کہوں گا کہ یہ نسل کشی کی ترغیب ہے، کیوں کہ کسی ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے، خصوصاً توانائی کے شعبے پر حملے کی دھمکی کا مطلب ہے کہ آپ پوری آبادی کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اور یہ کسی بھی طرح جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے کم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی موجودہ حکومت قانون، منطق یا بنیادی اخلاقی اصولوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔بقائی نے کہا جہاں تک ایرانیوں کا تعلق ہے، ہم اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کا ہر ممکن طاقت سے دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم نے نہ صرف گزشتہ 37 دنوں میں بلکہ گزشتہ تقریباً 5 دہائیوں کے دوران بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ایرانی بہت محبِ وطن ہیں اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔