واشنگٹن (06 اپریل 2026): نیویارک ٹائمز ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو کی اندرونی کہانی سامنے لے آیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے امریکی پائلٹ کو بچانے کے لیے دھوکا دہی پر مبنی خفیہ آپریشن تیار کیا تھا، اور ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی اطلاعات پھیلائی گئیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق دوسرا زخمی امریکی اہلکار 24 گھنٹے سے زائد وقت تک ایرانی فورسز سے چھپا رہا، امریکی اہلکار پہاڑی علاقے میں پناہ لے کر دشمن سے بچا رہا تھا، جس کا سراغ سی آئی اے نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لگایا۔امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ اس ریسکیو آپریشن میں سیکڑوں کمانڈوز اور خصوصی فورسز نے حصہ لیا، امریکی فوج نے ریسکیو کے دوران ایرانی فورسز کو دور رکھنے کے لیے بمباری بھی کی، اور زخمی اہلکار کو بہ حفاظت ریسکیو کرنے کے بعد کویت منتقل کر دیا۔روئٹرز کے مطابق امریکی خصوصی فورسز نے رات کی تاریکی میں تقریباً 7 ہزار فٹ بلند پہاڑی علاقے میں پہنچ کر اسے تلاش کیا اور نکال لیا۔ اس دوران مشن کو شدید خطرات کا سامنا رہا، اور کئی بار ایسا لگا کہ یہ آپریشن ناکام ہو سکتا ہے۔ریسکیو آپریشن کے دوران ایک اہم مرحلے پر دو MC-130 ٹرانسپورٹ طیارے اڑان بھرنے میں ناکام ہو گئے، جس سے تقریباً 100 امریکی فوجیوں کے پھنس جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںاس صورت حال میں کمانڈرز نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے چھوٹے طیاروں کو مرحلہ وار بھیج کر تمام اہلکاروں کو نکالا۔ تاہم، ناکارہ طیاروں کو وہیں تباہ کر دیا گیا تاکہ حساس فوجی ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھوں میں نہ جائے۔یہ آپریشن دو دن تک جاری رہنے والی ایک سنسنی خیز دوڑ کی طرح تھا، جس میں امریکی اور ایرانی افواج دونوں اس زخمی اہلکار تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ یہ اہلکار شدید زخمی ہونے کے باوجود کئی گھنٹوں تک پہاڑی علاقے میں چھپا رہا اور گرفتاری سے بچتا رہا۔مشن کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی نے ایک فریب کاری (deception) مہم بھی چلائی، جس کے ذریعے ایرانی فورسز کو گمراہ کیا گیا کہ پائلٹ پہلے ہی نکال لیا گیا ہے۔ آپریشن کے دوران امریکی فورسز نے الیکٹرانک نظام جام کیے، سڑکوں کو نشانہ بنایا تاکہ دشمن کی پیش قدمی روکی جا سکے، ابتدائی تلاش کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، کچھ امریکی ہیلی کاپٹرز کو ایرانی فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔روئٹرز کے مطابق آپریشن کا نتیجہ یہ رہا کہ تمام خطرات کے باوجود امریکی افواج زخمی اہلکار کو بہ حفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئیں اور تمام امریکی اہلکار واپس لوٹ گئے۔