اسرائیلی وزیر اعظم کا چیف آف اسٹاف عہدے سے فارغ

Wait 5 sec.

تل ابیب(6 اپریل 2026): اپنی ہی جماعت اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ترجمان اور چیف آف اسٹاف زیو اگمون کو عہدے سے ہٹا دیا۔زیو اگمون نے مشرقِ وسطیٰ نژاد لیکود ارکانِ پارلیمنٹ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس منظرِ عام پر آنے کے بعد استعفیٰ کی پیشکش کی تھی۔ اس سے قبل اتوار کی شام نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگمون معافی مانگ چکے ہیں اور وہ متبادل ملنے تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے، تاہم اس فیصلے پر پارٹی کے اندر سے ہی شدید ردعمل سامنے آیا۔نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا میں نے زیو اگمون کی معافی قبول کر لی ہے۔ ان سے منسوب ریمارکس نہیں کہے جانے چاہیے تھے، اور یہ اچھا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر معافی مانگ لی۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل کو اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لیے استحکام اور کام کے تسلسل کی ضرورت ہے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کبھی اگمون سے نسل پرستانہ بات نہیں سنی۔