تہران (06 اپریل 2026): ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بعد دیگر وسیع بحری گزرگاہیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر کے ایک سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل حملوں میں شدت لائیں گے تو آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر اہم عالمی بحری گزرگاہیں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔علی اکبر ولایتی نے ریاستی ٹی وی پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا آبنائے بھی ’’آبنائے ہرمز جتنا ہی اسٹریٹجک‘‘ سمجھا جاتا ہے، اور اسے انھوں نے ’’مزاحمت کی متحد کمانڈ‘‘ قرار دیا۔ولایتی نے کہا کہ کسی بھی فریق کی کوئی بھی غلطی عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارتی سلسلے کو شدید متاثر کر سکتی ہے، اور انھوں نے کہا کہ امریکا ’’اب تک طاقت کے جغرافیے کو نہیں سمجھا ہے۔‘‘اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںیہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی مقررہ تاریخ تک نہ کھولنے پر ممکنہ نتائج کی وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ باب المندب کا آبنائے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے، عالمی بحری جہاز رانی کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور ماضی میں یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔دریں اثنا، یمن کے حوثی باغیوں نے ایران سے اظہار یک جہتی کے لیے باب المندب کو نشانہ بنانے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ادھر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے سعید جلیلی نے اہم بیان میں کہا ہے کہ جنگ تب ختم ہوگی جب ہم چاہیں گے، اور جب ہم اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے۔