بنگلہ دیش: خسرہ کا خطرناک پھیلاؤ، 98 بچے جاں بحق

Wait 5 sec.

ڈھاکا (6 اپریل 2026): بنگلہ دیش میں بچوں میں خسرہ کی بیماری کا پھیلاؤ خطرناک ہو گیا 98 بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں خسرہ کی بیماری کا پھیلاؤ خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے اور تین ہفتوں کے دوران 98 بچے اس بیماری کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔بنگلہ دیشی حکومت کے جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 6 ہزار 476 بچوں میں خسرہ جیسی علامات پائی گئی ہیں۔ متاثرہ بچوں کی عمریں 6 ماہ سے 5 سال کے درمیان ہیں۔خسرہ کے پھیلاؤ کے بعد وزارت صحت و خاندانی بہبود نے ہنگامی بنیادوں پر دارالحکومت ڈھاکا سمیت ملک بھر میں خسرہ سے بچاؤ کی ویکسینیشن شروع کر دی ہے۔اس بیماری کے پھیلاؤ کے حوالے سے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ خسرہ کی بیماری کا بچوں میں پھیلاؤ اور بچوں کی اموات کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔حکام نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کئی مریضوں کا ٹیسٹ نہیں ہو پاتا یا بچے ٹیسٹنگ سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں، جس سے اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 95,000 اموات خسرہ کے باعث ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر غیر ویکسین شدہ بچے شامل ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ خسرہ دنیا کی انتہائی متعدی بیماریوں میں شامل ہے جو کھانسی یا چھینک کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے اور بچوں میں دماغی سوجن اور شدید سانس کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔