ٹرمپ کے بیانات! تیل کی عالمی مارکیٹ میں بھونچال آگیا، قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں

Wait 5 sec.

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کودی گئی سخت ڈیڈ لائن کے بعد خام تیل کی قیمتیں 52 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید تیزی آگئی ہے۔پیر کے روز سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خدشات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 52 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔عالمی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت 2.01 فیصد اضافے کے ساتھ 111.23 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 3.53 فیصد یعنی تقریباً 4 ڈالر کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، جس سے یہ 115.48 ڈالر کی سطح پر آگئی۔گزشتہ سیشن میں WTI میں 11 فیصد اور برینٹ میں 8 فیصد اضافہ ہوا تھا، جو 2020 کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔قیمتوں میں اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی حالیہ دھمکی ہے، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے منگل کی ڈیڈ لائن تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔عالمی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 115 ڈالر سے اوپر برقرار رہی تو یہ 118 سے 120 ڈالر تک جا سکتی ہے اور نیچے کی جانب 109 ڈالر سے گرنے کی صورت میں 106 ڈالر تک کمی آسکتی ہے، جبکہ مضبوط سپورٹ 100 سے 102 ڈالر کے درمیان ہے۔امریکی صدر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ یہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ماہ کے اختتام تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس میں کروڈ آئل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔