بارامتی ضمنی انتخاب: ایم وی اے کی کوششوں کو جھٹکا، سنیترا پوار کو ٹکر دینے کے لیے کانگریس امیدوار آکاش مورے میدان میں

Wait 5 sec.

مہاراشٹر میں بارامتی ضمنی انتخاب کو لے کر سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک طرف مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے اتحادی، شیو سینا (ادھو گروپ) اور شرد پوار کی زیرقیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) بلامقابلہ انتخابات کے لیے کوشاں ہیں وہیں دوسری طرف کانگریس نے سنیترا پوار کے خلاف اپنا امیدوار اتار دیا ہے۔ اتوار کی دیر شام کانگریس نے آکاش وجے راؤ مورے کو اپنا امیدوار اعلان کرکے حکمراں خیمے کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔کیا بی جے پی لیڈران ’چوہے والے‘ اسپتالوں میں اپنا علاج کروائیں گے؟ مہاراشٹر میں دردناک واقعہ پر کانگریس کا سوالبتادیں کہ بارامتی سیٹ طویل عرصے سے پوار خاندان کا گڑھ رہی ہے۔ ایسے میں کانگریس امیدوار کے اعلان کے بعد ریاست کی سیاست کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔سنیترا پوار اس سیٹ سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ وہ مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی (اجیت پوار) کی صدر بھی ہیں۔ کانگریس کے اعلان نے بارامتی کے موجودہ سیاسی ماحول کو نیا موڑ دے دیا ہےجو روایتی طور پر پوار خاندان کا گڑھ مانا جاتا ہے۔بارامتی اسمبلی ضمنی انتخاب: سنیترا پوار کو ’بلا مقابلہ‘ اسمبلی بھیجنے کی تیاری میں این سی پیمعلوم ہو کہ کانگریس لیڈر آکاش مورے پیشے سے وکیل ہیں اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری ہیں۔ مورے کا سیاست سے خاندانی تعلق ہے۔ ان کے والد وجے راؤ مورے مہاراشٹر قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے رکن تھے۔ آکاش مورے پہلے بھی بارامتی سے الیکشن لڑ چکے ہیں۔ 2014 کے بارامتی اسمبلی انتخابات میں آکاش مورے نے اجیت پوار کے خلاف کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔ حالانکہ اس الیکشن میں وہ ہار گئے تھے۔ اب وہ بارامتی ضمنی انتخاب کے لیے آنجہانی اجیت پوار کی اہلیہ سنیترا پوار کے خلاف کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں اتریں گے۔Congress announces advocate Akash Vijayrao More as its candidate for the Baramati Assembly by-election. Akash More is the Secretary of the Maharashtra Pradesh Congress Committee. His father, Vijayrao More, was a Member of the Maharashtra Legislative Council (MLC). pic.twitter.com/oeNN322tJj— ANI (@ANI) April 5, 2026آکاش مورے کے والد وجے راؤ مورے نے بھی سماج وادی پارٹی کی جانب سے شرد پوار کے خلاف اسمبلی الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ اس کے بعد 1990 میں شرد پوار نے انہیں کانگریس میں شامل کیا اور قانون ساز کونسل کا رکن بنایا۔ حالانکہ جب شرد پوار نے 1999 میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی بنیاد رکھی تو وجے راؤ مورے نے اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ انہوں نے شرد پوار کو کانگریس سے علیحدہ نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا تاہم 86 سالہ وجے راؤ مورے کے شرد پوار کے ساتھ آج بھی خوشگوار تعلقات برقرار ہیں۔ انہوں نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں سپریا سولے اور بعد میں یوگیندر پوار کے لیے مہم چلائی تاہم اب وہ سنیترا پوار کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔