چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک خارج

Wait 5 sec.

راجیہ سبھا کے چیئرمین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 63 اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے دیے گئے نوٹس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ لوک سبھا کے اسپیکر نے بھی اسی نوعیت کی تجویز مسترد کر دی۔ یہ فیصلہ ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کی دفعہ 3 کے تحت کیا گیا، جس کے نتیجے میں مواخذے کی کارروائی عملاً رک گئی ہے۔اس سے قبل کل 193 ارکانِ پارلیمنٹ (130 لوک سبھا اور 63 راجیہ سبھا) نے اس مواخذہ تجویز پر دستخط کیے تھے، جس کا نوٹس 12 مارچ 2026 کو پیش کیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پارلیمنٹ میں اس نوعیت کی کارروائی کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ نوٹس آئینِ ہند کے آرٹیکل 324(5) اور آرٹیکل 124(4) کے ساتھ ساتھ متعلقہ انتخابی قوانین کے تحت جمع کرایا گیا تھا۔حزب اختلاف نے گیانیش کمار پر متعدد سنگین الزامات عائد کیے، جن میں جانبدارانہ طرزِ عمل، ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR) میں بے ضابطگیاں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا اور بڑے پیمانے پر ووٹ کے حق سے محرومی جیسے الزامات شامل تھے۔ خاص طور پر بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرِ ثانی کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے گئے، جہاں اپوزیشن کے مطابق کئی ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔چیئرمین نے نوٹس اور اس سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں، لہٰذا اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد مواخذے کی پوری کارروائی وہیں رک گئی۔دوسری جانب اپوزیشن نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے رکنِ پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’’راجیہ سبھا کے ارکان کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کو بغیر کسی واضح وجہ کے مسترد کر دیا گیا، جو پارلیمنٹ کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے،‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے کو دانستہ طور پر نظرانداز کر رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ اب نہ صرف سیاسی بحث کا مرکز بن چکا ہے بلکہ اس نے انتخابی نظام کی شفافیت اور ادارہ جاتی غیر جانبداری پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔