آپ نے ایرانیوں کو گالی دی؟ جی! مجھے کوئی شرمندگی نہیں، ٹرمپ کا جواب

Wait 5 sec.

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ایران کے خلاف جارحانہ زبان استعمال کرنے اور گالی دینے کے اپنے بیان پر ڈٹ گئے۔وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ کی صورتحال اور مذاکرات کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ دو پائلٹوں کو ریسکیو کرنے سے متعلق میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اپنے بیانات کا دفاع بھی کیا۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کل اپنی پوسٹ میں ایرانیوں کو گالی دی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی میں نے بالکل کہا تھا اور جو کہا اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ میری پوسٹ پر ناقدین کیا بول رہے ہیں مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی رہنماؤں کے لیے غلیظ گالیوں سے بھری پوسٹ پر دنیا حیران امریکا میں رجیم چینج کا مطالبہ کر دیا۔ایران سے جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا لیکن ٹرمپ کئی بار دعووں کے باوجود نہ ایران سے معاہدہ کر سکے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلوا سکے۔گزشتہ روز امریکی صدر نے ایرانی رہنماؤں کے لیے گالیوں سے بھری ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر جاری کی، جس کو دیکھ کر اقوام عالم حیران رہ گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے ان کی مایوسی ظاہر ہو رہی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ انیئس کالامار نے ٹرمپ گالیوں سے بھری ایران کو دھمکی آمیز ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے ان دھمکیوں کو نفرت انگیز قرار دیا.انہوں نے کہا کہ ایرانی پلوں، بجلی گھروں کو تباہ کرنے کے بعد سب سے پہلے متاثر شہری ہوں گے، نہ بجلی، نہ پانی اور حملوں سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر امریکی سیاست دانوں نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔سینیٹ میں اقلیتی قائد چک شومر نے کہا کہ ایسے میں جب سب لوگ ایسٹر منانے جا رہے ہیں ٹرمپ سوشل میڈیا پر بے قرار پاگل کی طرح بکواس کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی سابق زبردست حامی ٹیلر گرین نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کا ہر وہ شخص جو خود کو مسیحی سمجھتا ہے اسے صدر کے پاگل پن میں مداخلت کرنی چاہیے۔امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو ایسٹر کی ان چھٹیوں میں امریکی آئین میں پچیسویں ترمیم لاگو کرنے کے لیے قانون دانوں سے بات کر رہے ہوتے۔ پچیسویں ترمیم کے تحت صدر کی معذوری کی صورت میں کابینہ کے اکثریتی فیصلے سے اس کے اختیارات نائب صدر سنبھال سکتا ہے۔ڈیموکریٹ کانگریس مین گریگری میکس نے لکھا کہ ٹرمپ نے پوسٹ میں غیر مہذب اور بے ربط زبان استعمال کی، یہ کوئی خوبی نہیں ہے، یہ غلط اندازوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے، امریکا کی ساکھ کو کم