’پڈوچیری کو مکمل ریاست کا درجہ دلائیں گے‘، انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران راہل گاندھی کا عزم

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پڈوچیری میں کانگریس اتحاد کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے حکمراں جماعت اے آئی این آر سی-بی جے پی اتحاد کو ہدفت تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڈوچیری کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کے لیے کانگریس پرعزم ہے۔ عظیم الشان ریلی کو خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ریاستی حکومت مقامی لوگوں کی آواز نہیں ہے، بلکہ اصل میں دہلی سے مسلط کی گئی ہے۔ بی جے پی ریموٹ کنٹرول سے ریاست کو چلا رہی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر لوگوں کی مرضی کو نظر انداز کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔‘‘The BJP runs the state by remote control, with the Lieutenant Governor (LG) acting as a means to bypass the will of the people. Regional leaders are being sidelined, and local body elections are not being allowed to be held.The once vibrant industrial and textile sector is… pic.twitter.com/IAQYLwXFyM— Congress (@INCIndia) April 6, 2026راہل گاندھی نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ ’’ریاست کے علاقائی لیڈران کو کنارے کیا جا رہا ہے اور بلدیاتی انتخاب نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ پڈوچیری پر راجہ کی طرح لیفٹیننٹ کی حکومت ہو، پڈوچیری کا اقتدار مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے پڈوچیری کے عوام سے وعدہ کیا کہ ’’کانگریس کے اقتدار میں آنے کے 6 ماہ کے اندر بلدیاتی انتخاب کرائے جائیں گے۔‘‘The BJP wants Puducherry to belong to Mr. Adani.The strategic Karaikal Port has already been sold to him, and he has incorporated Adani Electricity Puducherry Limited (AEPL), which indicates that even your electricity may soon be handed over to him.Today, Puducherry is a hub… pic.twitter.com/i66HbyEr6C— Congress (@INCIndia) April 6, 2026پڈوچیری کے صنعتی اور ٹیکسٹائل شعبوں کی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ سینکڑوں کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ بی جے پی پڈوچیری کو صنعتکار اڈانی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ اسٹریٹجک طور پر اہم ’کرائیکل پورٹ‘ پہلے ہی انہیں فروخت کیا جا چکا ہے اور اب اڈانی الیکٹرسٹی پڈوچیر لمیٹڈ کے ذریعہ پڈوچیری کا بجلی کا نظام ان کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔A 30 percent commission is taken on all contracts. Liquor licenses are sold for commissions, and stalls are placed near schools and places of worship. No matter how much the public complains, nothing happens.The Puducherry govt. has grabbed temple lands.Law and… pic.twitter.com/Kg7JkGckik— Congress (@INCIndia) April 6, 2026کانگریس رکن پالیمنٹ نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بدعنوانی پر سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ریاست میں ہر ٹھیکے پر 30 فیصد کمیشن لیا جا رہا ہے اور حکومت وصولی ایجنٹ کی طرح کام کر رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کمیشن لے کر شراب کے لائسنس فروخت کیے جانے، اسکول اور عبادت گاہوں کے پاس شراب کی دکانیں کھولنے، مندروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے اور اسکولی طلبہ کے درمیان بڑھتی ہوئی نشے کی لت جیسے سنگین مسائل اٹھا کر حکومت کو گھیرا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پڈوچیری آج نقلی ادویات کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے، جہاں بڑے پیمانے نقلی دوائیں بنائی جا رہی ہیں جنہیں ملک بھر میں بھیجا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ محض بدعنوانی ہی نہیں بلکہ یہ ایسی بدعنوانی ہے جس میں قتل بھی شامل ہے۔The Congress alliance government in Puducherry will be built on guarantees that support the people: •⁠ ⁠₹2000/month support for unemployed youth•⁠ ⁠30,000 new jobs in public & private sectors•⁠ ⁠Free bus travel for women•⁠ ⁠Govt job age limit relaxed up to… pic.twitter.com/St20IcvU8x— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) April 6, 2026کانگریس لیڈر نے پڈوچیری کے عوام سے وعدہ کیا کہ ریاست میں کانگریس اتحاد کی حکومت بننے پر بے روزگار نوجوانوں کو ہر ماہ 2000 روپے کی مدد دی جائے گی۔ راہل گاندھی نے سرکاری اور پرائیویٹ دونوں شعبوں میں 30000 نئی ملازمت کے مواقع پیدا کرنے اور سرکاری ملازمت کے لیے عمر کی حد 40 سال تک بڑھائے جانے کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہر خاندان کو 20 لاکھ روپے تک کا ’ہیلتھ انشورنس کور‘ اور پڈوچیری کی بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر پڈوچیری کانگریس انچارج گریش چوڈنکر، پڈوچیری کانگریس صدر وی ویتھیلنگم، سابق وزیر اعلیٰ نارائن سامی، انجلی نمبالکر، دنیش گنڈو راؤ اور شیوا سمیت کئی لیڈران موجود تھے۔