ایران نے عارضی جنگ بندی مسترد کر دی

Wait 5 sec.

ایران نے عارضی جنگ بندی مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ کے خاتمے اور پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے پاکستان کے ذریعے امریکی تجویز کا باقاعدہ جواب دے دیا جس میں دوٹوک کہا گیا ہے کہ صرف مستقل امن اور پابندیوں کےخاتمے پر ہی بات ہو گی۔ایران نے واضح کیا جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ایران نے اپنے مطالبات کی فہرست بھی پیش کر دی ہے جس میں ایران پر عائد تمام معاشی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ مطالبات میں کہا گیا کہ جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو اور خطے میں تمام تنازعات کا حل ہو۔آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کیلئے مستقل طریقہ کار وضع کرنا بھی شامل ہے۔جنگ بندی امکانامریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہا ہے، جو جنگ کے مستقل خاتمے کی طرف لے جا سکتی ہے۔روئٹرز کے مطابق ایگزیوس نے اتوار کو امریکا، اسرائیل اور خطے کے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ثالث کاروں نے ایران امریکا معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، اور ایک گروپ نے ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے۔روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، جب کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواستوں پر فوری ردعمل نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق ثالثین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی شامل ہوگی، جس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا۔