یہودیت اور صیہونیت میں کیا فرق ہے؟

Wait 5 sec.

صیہونیت (زائین ازم) ایک سیاسی اور نظریاتی تحریک ہے اس کا مذہب سے براہ راست کوئی تعلق تو نہیں مگر اسرائیل کا قیام اس ہی کی مرہون منت ہے۔صیہونیت کا بنیادی مقصد قدیم تاریخی فلسطین (موجودہ اسرائیل) میں یہودی قوم کے لیے ایک محفوظ ریاست کا قیام اور اس کا تحفظ کرنا تھا۔یہ تحریک 19ویں صدی کے آخر میں یورپ میں یہود دشمنی (اینٹی سیمیٹیزم) کے ردعمل میں ابھری، دنیا بھر میں یہ بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہودیت اور صیہونیت ایک ہی چیز ہیں، تاہم تاریخی اور فکری اعتبار سے دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔یہودیت ایک ہزاروں سال قدیم مذہب ہے، جو عقائد، عبادات اور مذہبی تعلیمات پر مبنی ہے، جبکہ اس کے برعکس صیہونیت ایک جدید سیاسی نظریہ ہے، جو 19ویں صدی کے آخر میں سامنے آیا، جس کا مقصد دنیا بھر کے یہودیوں کو ایک قومی ریاست میں جمع کرنا تھا۔اس نظریے کو باقاعدہ شکل دینے کا سہرا تھیوڈور ہرزل کے سر جاتا ہے، جس نے 1897 میں ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ یورپ میں بڑھتے ہوئے یہود مخالف رجحانات کے باعث یہودیوں کے لیے الگ ریاست ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق ہر یہودی صیہونی نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر صیہونی لازماً مذہبی یہودی ہوتا ہے۔ آج بھی دنیا میں ایسے مذہبی یہودی گروہ موجود ہیں جو صیہونیت اور ریاست اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہبی تعلیمات کے مطابق یہودی ریاست کا قیام ایک مخصوص الہامی وقت سے مشروط ہے۔تاریخی شواہد کے مطابق صیہونیت بنیادی طور پر ایک قوم پرستانہ اور سیاسی تحریک ہے، جس کا تعلق زمین، ریاست اور اقتدار سے ہے جبکہ یہودیت کا دائرہ مذہب اور روحانیت تک محدود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں تصورات کو ایک سمجھنا نہ صرف علمی غلطی ہے بلکہ عالمی سیاست اور تاریخ کو سمجھنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ایلومیناٹی، بال اور فری میسن کیا ہیں؟ خوفناک سازش یا کچھ اور؟