تہران (07 اپریل 2026): ایرانی موسیقار علی قمصری نے موسیقی کے ذریعے مزاحمت کا ایک منفرد انداز اپناتے ہوئے ایران کے سب سے بڑے بجلی گھر دماوند پاور پلانٹ پر دھرنا دے دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق علی قمصری نے پاور پلانٹ میں قیام کے دوران اپنے ساز کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کرایا اور موسیقی کے ذریعے ممکنہ حملوں کے خلاف پیغام دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔علی قمصری کا کہنا ہے کہ ’’اگر بجلی نہ ہو تو پانی بھی نہیں ہوگا‘‘، انھوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کے اہم انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق دماوند پاور پلانٹ تہران کی تقریباً نصف بجلی فراہم کرنے والا ایک اہم مرکز ہے، جس کی حفاظت کو قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںدریں اثنا، ایران کے نائب وزیر برائے کھیل و امور نوجوان علی رضا رحیمی نے شہریوں سے بجلی گھروں کے تحفظ کے لیے انسانی زنجیریں بنانے کی اپیل کر دی ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں علی رضا رحیمی نے کہا کہ شہری آج منگل کی دوپہر 2 بجے پاور پلانٹس پر جمع ہوں اور ملک کے اہم انفرااسٹرکچر کے دفاع کے لیے متحد ہو جائیں۔ انھوں نے خاص طور پر نوجوانوں، فن کاروں اور کھلاڑیوں کو ہدایت کی کہ وہ اس اقدام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور انسانی زنجیریں تشکیل دیں۔رحیمی کا کہنا تھا کہ عوامی تنصیبات پر حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، اور ایسے اقدامات کے خلاف قومی سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ ضروری ہے۔یہ بیان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور پاور پلانٹس پر ممکنہ حملوں کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر ایرانی حکام اور عوام کی جانب سے ردعمل جاری ہے۔