بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت ملتوی کر دی ہے، جس کے تحت سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کے لیے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد ریزرویشن کو ختم کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 2 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب فروری 2026 میں مہاراشٹر حکومت نے 17 فروری کو ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سال 2014 کے اس پرانے آرڈیننس کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا، جس کی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی اور جس پر عدالت کی طرف سے روک بھی لگائی جا چکی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت کا یہ قدم آئینی اصولوں کے خلاف ہے اور مسلم برادری کے مفادات کو نقصان پہنچانے والا ہے۔یہ عرضی ایڈوکیٹ اعجاز نقوی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جسے مسلم برادری کے مختلف نمائندوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور عبوری راحت کے طور پر ریزرویشن کو بحال رکھا جائے۔سماعت کے دوران اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب درخواست گزار یا ان کا نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے عدالت نے فوری طور پر کوئی کارروائی کرنے سے گریز کیا اور ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر درخواست گزار ذاتی طور پر یا اپنے وکیل کے ذریعے حاضر ہوں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ تاریخ پر تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔یہ تنازع مہاراشٹر میں ریزرویشن کے دیرینہ مسئلے کا حصہ ہے۔ سال 2014 میں اس وقت کی کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی حکومت نے مسلم برادری کے کچھ مخصوص پسماندہ طبقات کو خصوصی پسماندہ زمرہ کے تحت 5 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، اسی سال نومبر میں بامبے ہائی کورٹ نے اس پر روک لگا دی تھی، جبکہ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس ریزرویشن کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔موجودہ حکومت نے اسی پس منظر میں اسے مکمل طور پر منسوخ کرنے کا قدم اٹھایا، جس کے خلاف اب نئی قانونی لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ فی الحال ریزرویشن کے خاتمے سے متاثرہ طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند افراد میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے، جبکہ آئندہ سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا حکومت کا فیصلہ آئینی دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔