ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی اطلاعات

Wait 5 sec.

تہران: ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں میں گیس کی دو تنصیبات اور ایک پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے اس وقت رپورٹ ہوئے جب امریکی صدر نے ایران کے بجلی کے نظام پر حملے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا تھا۔خبر رساں ادارے فارس کے مطابق جاری حملوں کے دوران صہیونی اور امریکی دشمن نے اصفہان میں گیس ایڈمنسٹریشن بلڈنگ اور گیس پریشر ریگولیشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔رپورٹس کے مطابق وسطی ایران میں واقع ان تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنوب مغربی ایران میں خرمشہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔گورنر خرمشہر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ”ایک گولہ گیس پائپ لائن پروسیسنگ اسٹیشن کے باہر کے علاقے میں گرا”، تاہم نقصان کی نوعیت یا شدت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات بہت اچھے جا رہے ہیں، یہ بیان انہوں نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے اعلان اور ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے میں پانچ روزہ وقفے کے اعلان کے بعد دیا تھا۔ٹرمپ کا یہ اچانک مؤقف اس دو روزہ الٹی میٹم کے خاتمے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا، جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو اس کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا جائے گا۔بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہتاہم ایرانی میڈیا نے گزشتہ روز اس بات کی تردید کی تھی کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قسم کے مذاکرات جاری ہیں۔