واشنگٹن (28 مارچ 2026): امریکا کے ایران سے مذاکرات پر واشنگٹن کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آ گیا ہے، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں اس ہفتے ہوں گے۔امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران اس ہفتے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرے گا، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔وٹکوف نے جمعہ کو میامی میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں ٹرمپ کو بعد میں تقریر کرنا تھی، ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی، اور ہمیں یقیناً اس کی امید ہے۔‘‘کاروباری شخصیت سے سفارتی ایلچی بننے والے وٹکوف نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے امن منصوبے پر تہران کے جواب کی توقع ہے، ہمارا 15 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ میز پر موجود ہے، ہم ایرانیوں سے جواب کی توقع رکھتے ہیں۔ اس سے سب کچھ حل ہو سکتا ہے۔سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان کا امکانایران سے مذاکرات کے لیے امریکا کی طرف سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کے نام سامنے آ چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف امریکی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔ امریکا ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوں گے۔ٹرمپ کے اس غیر مصدقہ دعوے کی تائید کرتے ہوئے کہ ایران نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 تیل بردار جہاز گزرنے دیے، وٹکوف نے کہا ’’جہاز گزر رہے ہیں، یہ بہت ہی اچھی علامت ہے۔‘‘ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت دھمکیوں کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ تہران آئندہ ہفتوں میں معاہدے پر آمادہ ہو کر جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، اور میامی پہنچنے پر بھی انھوں نے اپنے اسی مؤقف کو برقرار رکھا۔