واشنگٹن (29 مارچ 2025): ہفتے کے روز امریکا بھر کے مختلف شہروں میں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں احتجاج کرنے والوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف ’’نو کنگز‘‘ احتجاجی سلسلے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا۔این بی سی کے مطابق مرکزی ریلی منیسوٹا کے شہر سینٹ پال میں ہوئی، جہاں اس موسمِ سرما میں امیگریشن کے نفاذ کی ایک کارروائی کے دوران دو امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔منتظمین کا کہنا ہے کہ امریکا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے جمع ہونے کی توقع ہے، اور ان کے مطابق یہ امریکی تاریخ میں ’’پرامن کارروائی کا سب سے بڑا دن‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔تمام 50 ریاستوں اور کئی براعظموں میں 3,200 سے زائد مارچز کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جہاں مظاہرین نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے، پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسی پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ہزاروں امریکی میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ گئےسینٹ پال کو اس تحریک کے مرکزی مقام کے طور پر منتخب کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جڑواں شہر جنوری میں دو امریکی شہریوں الیکس پریٹی اور رینی گُڈ کی ہلاکت کے بعد ایک حساس مرکز بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں وفاقی امیگریشن کارروائی کے دوران ہوئیں، جس پر مظاہرین اور تارکین وطن کے خلاف استعمال ہونے والے طریقوں پر شدید تنقید اور سوالات اٹھائے گئے۔گروپ 50501 کی قومی کوآرڈینیٹر سارہ پارکر نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’پچھلے نو کنگز احتجاج کے بعد سے ہم پیٹرول اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں دیکھ رہے ہیں، جب کہ ایران میں ایک غیر قانونی جنگ جاری ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’ہم نے اپنے ہمسایوں کو قتل ہوتے دیکھا، امریکی شہریوں کو قتل ہوتے دیکھا، اور ہمارے بچے اپنی طاقت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور احتجاجاً اسکولوں سے نکل رہے ہیں۔ امریکا کے لوگ سخت غصے میں ہیں، اور وہی لوگ نو کنگز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘ہفتے کے روز منیسوٹا کے گورنر ٹِم والز نے سینٹ پال میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی ریاست کے لوگ یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ یہاں کیا کیا گیا۔انھوں نے کہا جب وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ایک نام نہاد آمر نے اپنے غیر تربیت یافتہ اور وحشی افراد کو منیسوٹا میں نقصان پہنچانے کے لیے بھیجا، تو یہی منیسوٹا کے لوگ تھے جنھوں نے اپنے ہمسایوں، شرافت اور انسانیت کے لیے کھڑے ہو کر دکھایا۔ اور اس وقت جب جمہوریت خود خطرے میں محسوس ہو رہی ہے، منیسوٹا نے کہا ’’یہ ہماری موجودگی میں نہیں ہوگا۔‘‘اس کے بعد گورنر نے گلوکار بروس اسپرنگسٹین کو اسٹیج پر پرفارمنس کے لیے مدعو کیا، جو ٹرمپ اور امیگریشن کریک ڈاؤن دونوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ اسپرنگسٹین نے جنوری کی کارروائی پر ’’اسٹریٹس آف منیاپولس‘‘ کے نام سے ایک گانا بھی جاری کیا تھا۔ ریڈ اور ایمی سورینسن بھی سینٹ پال میں ہزاروں مظاہرین میں شامل تھے۔ اس جوڑے نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایران کی جنگ، امیگریشن کریک ڈاؤن، اور ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد مبینہ طور پر کارروائی نہ ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔