واشنگٹن (29 مارچ 2025): امریکی میرینز کی ہزاروں کی تعداد مشرقِ وسطیٰ پہنچ گئی ہے۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ تقریباً 3,500 اضافی فوجی یو ایس ایس تریپولی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ پہنچ گئے ہیں۔یہ سیلرز اور میرینز 31 ویں میرین ایکسپڈیشنری یونٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور 27 مارچ کو خطے میں پہنچے، ان کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور اسٹرائیک فائٹر طیارے، نیز ایمفیبیئس اسالٹ اور ٹیکٹیکل وسائل بھی شامل ہیں۔یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی فوج سے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی 82 ویں ایئربورن ڈویژن سے مزید ہزاروں فوجی تعینات کرے گی۔U.S. Sailors and Marines aboard USS Tripoli (LHA 7) arrived in the U.S. Central Command area of responsibility, March 27. The America-class amphibious assault ship serves as the flagship for the Tripoli Amphibious Ready Group / 31st Marine Expeditionary Unit composed of about… pic.twitter.com/JFWiPBbkd2— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 28, 2026 واضح رہے کہ پینٹاگون ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کی منظوری سے جنگ کا نیا اور زیادہ خطرناک مرحلہ شروع ہونے والا ہے، امریکی حکام کے مطابق ہزاروں فوجی، میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ رہے ہیں۔ایران میں زمینی آپریشن میں اسپیشل فورسز کے چھاپے شامل ہو سکتے ہیں، امریکی حکام کا کہنا ہے ایران میں ممکنہ زمینی آپریشن مکمل فوجی یلغار نہیں ہوگی، ایران میں زمینی کارروائی محدود نوعیت کی ہو سکتی ہے، امریکی اہلکار کے مطابق زیر غور زمینی آپریشن کا ممکنہ ٹائم فریم 2 ماہ ہو سکتا ہے۔