تہران (29 مارچ 2025): امریکا اور اسرائیل نے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، شہر بروجرد میں سویلین آبادی پر بھی بمباری کی گئی، جس میں ایران کے مشتبہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے تحقیقاتی سربراہ ڈاکٹر علی بیٹی اور بیٹے سمیت شہید ہو گئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی تنظیم برائے دفاعی اختراعات و تحقیق (جوہری ہتھیاروں کا پروگرام) کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ علی فولادوند، ہفتے کی صبح بروجرد پر ہونے والے فضائی حملوں میں اپنے خاندان کے افراد سمیت شہید ہو گئے۔ایرانی میڈیا نے ان کی شہادت کی خبر دیتے ہوئے انھیں ’’ایک عام شہری‘‘ قرار دیا حالاں کہ SPND ادارہحساس فوجی نوعیت کی تحقیق کی نگرانی کرتی ہے۔ فولادوند گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران حملے میں بچ گئے تھے، جس میں ان کی اہلیہ معصومہ پیرہادی شہید ہو گئی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یکم اکتوبر 2025 کو ان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان کی کوئی تصویر عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںایرانی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں نے شمالی تہران کے سعادت آباد محلے اور دارالحکومت کے مغرب میں ایک اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے، سعادت آباد میں 3 اور مغربی تہران میں 9 افراد زخمی ہوئے۔فارس کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مغربی تہران میں ایک عمارت اور قریبی علاقوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کئی گاڑیاں بھی ملبے میں ڈھکی ہوئی دیکھی گئیں۔بمباری میں صوبہ بوشہر میں ایک خاندان کے 4 افراد مارے گئے ہیں اور صوبہ خوزستان میں پانی کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تہران کی یونیورسٹی پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں پر انتقامی حملوں کی دھمکی دی ہے۔خوزستان کے شہر ہفتگل میں پانی کے اہم ذخیرے پر حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، آبی ذخیرے پر حملے کے بعد متبادل ذرائع سے پانی کی فراہمی جاری ہے، ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے امریکی اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے 24 اہلکار شہید اور 24 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔