واشنگٹن (29 مارچ 2025): امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے ہفتے کے روز امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔اخبار نے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے جنگ کا نیا اور زیادہ خطرناک مرحلہ شروع ہوگا، اور پینٹاگون ایران میں ہفتوں تک زمینی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان منصوبوں کی منظوری دیں گے یا نہیں۔ٹرمپ انتظامیہ ایران میں جاری جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ تعینات کر چکی ہے، جب کہ امریکی فوج کی 82 ویں ایئربورن ڈویژن سے ہزاروں مزید فوجیوں کو بھی خطے میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ہزاروں امریکی میرینز مشرقِ وسطیٰ پہنچ گئےرپورٹ کے مطابق ایران میں زمینی آپریشن میں اسپیشل فورسز کے چھاپے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم حکام نے کہا کہ ایران میں ممکنہ زمینی آپریشن مکمل فوجی یلغار نہیں ہوگی، یہ زمینی کارروائی محدود نوعیت کی ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں پر چھاپے مارنے پر غور کیا ہے، انتظامیہ نے گزشتہ ماہ جزیرہ خارک پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت کی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق ان تیاریوں کا مطلب یہ نہیں کہ صدر نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے، امریکی اہلکار کے مطابق زیر غور زمینی آپریشن کا ممکنہ ٹائم فریم 2 ماہ ہو سکتا ہے۔