ماسکو: روس کی جانب سے بڑا اعلان سامنے آیا ہے کہ یکم اپریل 2026 سے پیٹرول کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی جبکہ یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہنے کا امکان ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کا کہنا ہے کہ یہ قدم گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ روس میں کھیتی کے موسم اور ریفائنری کی معمولی دیکھ بھال کے دوران پیٹرول کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے حکومت چاہتی ہے کہ عوام اور صنعتی شعبے سستے ایندھن تک رسائی حاصل کریں اور مہنگائی نہ بڑھے۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر روس نے اپنے ”بفر اسٹاک” کو محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ روس دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس فیصلے کا سب سے براہِ راست اثر ان ممالک پر پڑے گا جو روس کے ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔ایران کے پیچھے روسی صدر پیوٹن کا ہاتھ ہے، برطانوی وزیر دفاعروس کی جانب سے کیا گیا یہ فیصلہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا سکتا ہے اور بین الاقوامی تیل کی فراہمی پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بھی تیز کر سکتا ہے۔