تہران : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے توانائی تنصیبات پر حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کوبھاری قیمت چکانےکی دھمکی دے دی۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ ہولناک صورتحال اختیار کر گئی ہے، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے مشورے کے باوجود اسرائیل نے ایران کے ایٹمی مراکز، بجلی گھروں اور اسٹیل فیکٹریوں کو نشانہ بنا ڈالا ہے۔ایرانی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یزد میں واقع یورینیم پروسیسنگ پلانٹ، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریبی علاقوں اور خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس پر بمباری کی۔ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فی الحال کوئی جانی نقصان یا ریڈی ایشن کا اخراج نہیں ہوا، اس کے علاوہ خوزستان اور اصفہان میں دو بڑی اسٹیل فیکٹریاں اور ایک سویلین بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے امریکی عوام کی جانوں اور ٹیکس پر جوا کھیلا ہے اور وہ یہ جوا بری طرح ہار گئے ہیں، نیتن یاہو اب یقینی بنارہے ہیں کہ اس ہار کا خمیازہ امریکی عوام بھگتے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے یہ حملے امریکہ کے ساتھ رابطے سے کیے ہیں اور اب اسرائیل کو ان جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہ جنگ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایرانی عوام کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر مجید موسوی نے اعلان کیا ہے کہ "اب آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں ہوگا۔پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں سے وابستہ تمام ملازمین کو فوری طور پر کام چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے بڑے جوابی حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔