مغربی ایشیا کا بحران عالمی معیشت کے لیے خطرناک! خوفناک رپورٹ کے بعد ہندوستان میں مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ

Wait 5 sec.

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان عالمی بازار ایک بڑے جغرافیائی سیاسی تبدیلی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ’سسٹمیٹکس‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال صرف عارضی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے جو بار بار اُبھر سکتی ہے اور طویل مدتی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔مغربی ایشیا کی جنگ کے دوران ہندوستان میں گھریلو گیس کا شدید بحران، کالابازاری پر اپوزیشن کا حکومت پر سخت حملہرپورٹ کے مطابق بازار اس وقت جنگ سے متعلق ہرخبر پرامید اور خوف کے درمیان کام کر رہا ہے لیکن اس کے پس پشت ایک گہری تبدیلی جاری ہے۔ امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں بدلتی پالیسیاں اور ایران کے ردعمل سے ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جہاں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی خطرات کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں اسے عالمی جغرافیائی سیاسی ڈھانچے میں ایک اہم میٹامورفوسس کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں امریکہ اور چین کی قیادت والے گلوبل ساؤتھ کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ مستقبل میں بار بار اس طرح کی کشیدگی اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔اقتصادی محاذ پر رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بحران کا براہ راست اثر توانائی کی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 100 ڈالر کے قریب یا اس سے اوپر پہنچ چکی ہیں، جو نہ صرف سپلائی سے متعلق خطرات بلکہ بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل پریمیم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کشیدگی کم ہو جاتی ہے تو خام تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹیں برقرار رہ سکتی ہیں، جس سے قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عالمی قرض بھی تشویش کی بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی قرض 2025 کے دوران تقریباً 29 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 348 ٹریلین ڈالر ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے جس سے حکومتوں کی معاشی محرک فراہم کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔’یہ ملک کی بڑی آزمائش، مشترکہ کوششوں سے نمٹیں گے‘، مغربی ایشیا بحران پر راجیہ سبھا میں وزیر اعظم مودی کا بیانہندوستان کے حوالے سے رپورٹ میں خاص طور سے خبردار کیا گیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اور کمزور مانگ مل کر جمود کی حالت پیدا کرسکتے ہیں۔ اس سے حالیہ معاشی اصلاحات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں میں ہندوستان کی خوردہ افراط زر کی شرح 6 سے 7 فیصد سے اوپر جاسکتی ہے۔ رپورٹ کے آخر میں کےا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔ تیل کی اونچی قیمتیں، سخت مالی حالات اور بار بار لگنے والے جغرافیائی سیاسی جھٹکے اب عالمی معیشت کی مستقل خصوصیات بن سکتے ہیں جس کی وجہ سے طویل مدت تک ایڈجسٹمنٹ کا دور جاری رہ سکتا ہے۔